
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے بھارتی ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف دائر بدعنوانی اور فراڈ کے مقدمات واپس لینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب گوتم اڈانی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل رابرٹ جے جیوفرہ کی سربراہی میں نئی قانونی ٹیم مقرر کی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ واشنگٹن میں محکمہ انصاف کے اجلاس میں اڈانی کی قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکی حکام کے پاس مقدمہ چلانے کے لیے نہ تو ٹھوس شواہد موجود ہیں اور نہ ہی قانونی اختیار ہے۔
اسی ملاقات میں یہ پیشکش بھی کی گئی تھی کہ اگر مقدمات ختم کر دیے جائیں تو اڈانی گروپ امریکا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 15 ہزار ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی حکام نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری کی پیشکش فوجداری مقدمے کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوگی، تاہم معاملے پر مثبت ردعمل بھی سامنے آیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر ملکی رشوت ستانی کے مقدمات میں پہلے ہی نرم پالیسی اختیار کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ 2024 میں نیویارک کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے اور دیگر سات افراد پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے بھارت میں شمسی توانائی کے منصوبوں کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی مبینہ رشوت اسکیم چلائی اور امریکی سرمایہ کاروں سے حقائق چھپائے تھے۔
اڈانی گروپ بھارت میں بندرگاہوں، شاہراہوں، ایئرپورٹس اور میڈیا منصوبوں کا بڑا نیٹ ورک چلاتا ہے، جبکہ بلومبرگ کے مطابق گوتم اڈانی دنیا کے امیر ترین افراد میں بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ فوجداری مقدمات ختم بھی ہو جائیں، تب بھی اڈانی کو مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پہلے ہی 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے تصفیے کا اعلان کر چکا ہے، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ ایران سے متعلق پابندیوں کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر علیحدہ جرمانے کی تیاری کر رہا ہے۔