
بھارت میں طویل وقفے کے بعد حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 3 روپے اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں اور بھارت اپنی توانائی ضروریات کے باعث دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ڈیلرز نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 3 روپے کا اضافہ کیا ہے، جس کا مقصد عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ہونے والے نقصانات کا کچھ ازالہ کرنا ہے۔
دنیا میں تیل درآمد کرنے اور استعمال کرنے والے تیسرے بڑے ملک بھارت کو اُن آخری بڑی معیشتوں میں شمار کیا جا رہا ہے جنہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ آبنائے ہرمز میں یہ صورتحال ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد پیدا ہوئی۔
بھارت کی سرکاری آئل کمپنیاں جن میں ہندوستان پیٹرولیم کارپوریش، انڈین آئل کارپوریش اور بھارت پیٹرولیم کارپوریش لمیٹڈ شامل ہیں، ملک بھر کے ایک لاکھ 3 ہزار سے زائد فیول اسٹیشنز میں سے 90 فیصد سے زیادہ کو کنٹرول کرتی ہیں اور عموماً پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں مشترکہ طور پر طے کرتی ہیں۔
بھارت پیٹرولیم کارپوریشن کے ترجمان نے قیمتوں میں اضافے کی تصدیق کی، جبکہ انڈین آئل اور ایچ پی سی ایل نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
نئی قیمتوں کے مطابق بھارتی دارالحکومت دہلی میں ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول 97.77 روپے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔ اس سے قبل ڈیزل کی قیمت 87.67 روپے اور پیٹرول کی قیمت 94.77 روپے فی لیٹر تھی۔ یوں ڈیزل میں 3.4 فیصد اور پیٹرول میں 3.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، تاہم بعد ازاں یہ کم ہو کر 100 سے 105 ڈالر فی بیرل کے درمیان آگئیں۔
ممبئی میں قائم مالیاتی ادارے ایمکے گلوبل فنانشل سروسز کی چیف اکنامسٹ مادھوی اروڑا کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر صارفین کی مہنگائی پر تقریباً 15 بیسس پوائنٹس تک محدود رہ سکتا ہے، تاہم اس کے بالواسطہ اثرات زیادہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ اضافہ کافی نہیں، لیکن یہ مرحلہ وار مزید اضافوں کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
توانائی بحران کے خدشات کے پیش نظر بھارتی حکومت نے ایندھن کے استعمال میں کمی اور درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔
اتوار کے روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایندھن کی بچت، ورک فرام ہوم، غیر ضروری سفر میں کمی اور درآمدات محدود کرنے سمیت متعدد اقدامات پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے سے بھارت کے زرمبادلہ ذخائر دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
بھارت کی بعض ریاستوں نے اس ہفتے سرکاری محکموں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ غیر ضروری سفر محدود رکھا جائے، تقریبات سے گریز کیا جائے، اجلاس آن لائن کیے جائیں اور ہفتے میں دو روز گھر سے کام کیا جائے، جبکہ دفاتر میں نصف عملہ موجود رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی حکومت ان اقدامات کا دائرہ وفاقی سرکاری ملازمین، سرکاری بینکوں اور پبلک سیکٹر کمپنیوں تک بھی وسیع کر سکتی ہے، جس سے اخراجات اور سرکاری سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر سختی کا اشارہ مل رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں حالیہ اضافہ محدود نوعیت کا ہے اور نقصانات پورے کرنے کے لیے مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔
موڈیز کی بھارتی شاخ میں کارپوریٹ ریٹنگز کے نائب صدر پرشانت واشِشٹھ نے کہا کہ پیٹرول کی طلب میں اضافے کی رفتار متاثر ہوگی، جبکہ ورک فرام ہوم جیسے اقدامات بھی ایندھن کی کھپت کم کریں گے۔
ادارہ آئی سی آر اے نے رواں برس پیٹرول کے استعمال میں اضافے کی شرح مشرق وسطیٰ جنگ سے پہلے کے 5 سے 6 فیصد تخمینے سے کم کر کے 3 سے 4 فیصد کر دی ہے، جبکہ ڈیزل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ 2 سے 3 فیصد سے کم ہو کر تقریباً صفر رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
دوسری جانب بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین روپے اضافے کی خبر سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور عام صارفین کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ انڈیا میں آخری بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سنہ 2022 میں ہوا تھا۔ مارچ 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے چند روز قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی تھی۔