
امریکہ جانے کے خواہش مند غیر ملکی کارکنوں اور وہاں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے، جہاں امریکی محکمہ محنت نے ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت ملازمین کی کم از کم تنخواہوں میں نمایاں اضافے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
اس نئی تجویز کے مطابق مختلف شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی تنخواہوں میں گذشتہ مقررہ حد کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کا مقصد مقامی امریکی شہریوں کی ملازمتوں کا تحفظ کرنا ہے تاکہ سستے غیر ملکی کارکنوں کی وجہ سے امریکی شہریوں کی اجرتوں میں کمی نہ آئے۔
محکمہ محنت کی جانب سے 27 مارچ کو پیش کردہ اس نئے مسودے میں چار مختلف سطحوں کے کارکنوں کی تنخواہیں بڑھانے کی بات کی گئی ہے جن میں نئے آنے والے جونیئر ملازمین سے لے کر انتہائی تجربہ کار پیشہ ور افراد شامل ہیں۔
حکام کا موقف ہے کہ موجودہ تنخواہوں کا ڈھانچہ بیس سال پہلے طے کیا گیا تھا جو اب امریکی مزدوروں کے حقوق کی مناسب حفاظت نہیں کرتیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جونیئر سطح کے غیر ملکی کارکن کی کم از کم سالانہ تنخواہ جو پہلے 73,279 ڈالر تھی، اسے بڑھا کر 97,746 ڈالر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو کہ 33 فیصد سے زائد کا اضافہ ہے۔ اسی طرح تجربہ کار ملازمین کی تنخواہ 144,202 ڈالر سے بڑھا کر 175,464 ڈالر کرنے کی تجویز ہے۔
محکمہ محنت کا کہنا ہے کہ موجودہ طریقہ کار کی وجہ سے کمپنیاں امریکی شہریوں کے مقابلے میں غیر ملکیوں کو بہت کم تنخواہ پر رکھ لیتی ہیں، تاہم یہ نئی تبدیلیاں ایچ ون بی کے علاوہ دیگر ویزا پروگراموں پر بھی اثر انداز ہوں گی۔
یہ تجویز اب عوامی تبصرے کے لیے کھولی گئی ہے اور لوگ 26 مئی تک اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ تب آراء کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
تجویز پر ملازمین اور کمپنیوں کے درمیان ملا جلا ردعمل ظاہر ہوا ہے۔ کچھ ماہرین اس کو امریکی مزدوروں کے تحفظ کے لیے مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ چھوٹی کمپنیاں خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ زیادہ اجرت کی وجہ سے چھوٹی کمپنیاں اب نئے اور جونیئر ملازمین کو اتنی بھاری تنخواہوں پر نہیں رکھ سکیں گی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبوں میں غیر ملکی ہنر مند ملازمین کی بھرتی بڑھ رہی ہے اور اجرت میں اضافے سے کمپنیوں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے امریکہ سے باہر موجود امیدواروں کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی فیس بھی عائد کی گئی تھی تاکہ ویزا پروگرام کو مزید منظم کیا جا سکے۔