ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر آج جواب ملنے کا امکان ہے: امریکی میڈیا

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آج کسی بھی وقت ثالثوں کے ذریعے امریکی امن تجویز پر اپنا جواب جمع کرا سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ایک مختصر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اس یادداشت کا مقصد فوری طور پر جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔

اس مجوزہ ایک صفحاتی معاہدے کے تحت جنگ ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا جس کے بعد تیس دنوں کا ایک مخصوص وقت دیا جائے گا تاکہ ایٹمی مسائل، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت جیسے پیچیدہ معاملات کو حل کیا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔

تاہم انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ایران اس معاہدے پر راضی نہیں ہوتا تو بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ’پی بی ایس نیوز‘ کو بتایا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی صورت میں ایران کو اپنا اعلیٰ سطح کا افزودہ شدہ یورینیم امریکا بھیجنا ہوگا اور یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کو فعال نہیں رکھے گا۔ سادہ الفاظ میں صدر کا موقف ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے دور رہنا ہوگا۔

اس تمام صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سی این این کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ کے حکام سے ملاقات کی تاکہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو سمجھا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکا آخری لمحات میں ایران کو ایسی مراعات نہ دے دے جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles