امریکا کا ایران کے تیل بردار جہاز پر حملہ

امریکی فوج نے خلیج عمان میں ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر جنگ ختم کرنے کیلئے معاہدے کا دباؤ بڑھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی شرائط نہ مانیں تو نئی اور زیادہ شدید بمباری شروع کردی جائے گی۔ دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بدھ کے روز ایک امریکی جنگی طیارے نے خلیج عمان میں ایرانی آئل ٹینکر کے رَڈر کو نشانہ بنایا، جب وہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور قائم ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ دو ماہ سے جاری جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے اور تیل و گیس کی ترسیل دوبارہ بحال ہو سکتی ہے، لیکن یہ سب ایران کے مجوزہ معاہدے کو قبول کرنے پر منحصر ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو “بمباری دوبارہ شروع ہوگی” اور اس کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے ایک مختصر معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے، جس میں ایرانی یورینیم افزودگی پر پابندی، امریکی پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی فنڈز کی فراہمی اور آبنائے ہرمز کو جہازوں کیلئے کھولنے جیسے نکات شامل ہیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے اس ممکنہ معاہدے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی تجاویز کو “سختی سے مسترد” کردیا ہے، تاہم امریکا کی تازہ پیشکش کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے جاری غیر مستحکم جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات بھی ہوئے تھے، تاہم وہ کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

ادھر اسرائیل نے بھی بدھ کے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملہ کیا، جو اسرائیل اور ایران نواز حزب اللہ کے درمیان 17 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد پہلا حملہ تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق حملے کا ہدف حزب اللہ کی رضوان فورس کا ایک کمانڈر تھا، جبکہ حزب اللہ نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث عالمی ایندھن قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے، خصوصاً چین سمیت بڑی طاقتیں متاثر ہو رہی ہیں۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایرانی اعلیٰ سفارتکار سے ملاقات کے بعد فوری اور جامع جنگ بندی پر زور دیا اور کہا کہ ان کا ملک اس تنازع پر “گہری تشویش” رکھتا ہے۔

امریکا چین پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات استعمال کرتے ہوئے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles