آبنائے ہرمز پر نظر: فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز بحیرہ احمر کی جانب روانہ

فرانس نے آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی معیشت کو لاحق خطرات کے پیش نظر اپنا طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ احمر روانہ کردیا۔

فرانسیسی حکومت کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز “شارل ڈیگال” پر مشتمل بحری بیڑا بحیرہ احمر کی جانب روانہ کیا گیا، جس کے ساتھ اٹلی اور نیدرلینڈز کے جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا، بحران سے نمٹنے کے آپشنز کو وسعت دینا، شراکت دار ممالک کے دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور عالمی بحری تجارت سے وابستہ حلقوں کو اعتماد فراہم کرنا ہے۔

فرانسیسی صدارتی اہلکار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اب بھی جاری ہے، جس کے باعث عالمی معیشت کو نقصان بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ کشیدگی کے طویل ہونے کا خطرہ بھی انتہائی سنگین ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرانس اور برطانیہ کئی ہفتوں سے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد حالات معمول پر آنے یا تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانا ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کیلئے ایران کے ساتھ رابطہ ضروری ہوگا، جبکہ اب تک درجن بھر ممالک ابتدائی اجلاسوں کے بعد ممکنہ مشن میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔

فرانسیسی صدارتی اہلکار نے کہا کہ تجویز کے تحت ایران کو اپنی بحری آمدورفت جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ اس کے بدلے تہران امریکا کے ساتھ جوہری مواد، میزائل پروگرام اور خطے کی صورتحال پر مذاکرات کیلئے آمادہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا بھی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے گا اور اس کے بدلے ایران مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کی یقین دہانی کرائے گا۔

اہلکار کے مطابق ایسی صورت میں کثیرالملکی فورس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری قافلوں کی سیکیورٹی یقینی بنا سکے گی، بشرطیکہ ایرانی فورسز جہازوں کو نشانہ نہ بنائیں۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ایران اس تجویز پر کیوں آمادہ ہوگا، کیونکہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایک اہم دباؤ کے ہتھیار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اس تنازع میں اب تک زیادہ تر تماشائی رہے ہیں، لیکن مشرق وسطیٰ کی بحری گزرگاہوں پر اثرات اور تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد یورپ اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کیلئے متحرک ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر امریکی پالیسیوں کا ساتھ نہ دینے پر تنقید بھی سامنے آچکی ہے، اور خطے میں یورپی بحری اثاثوں کی تعیناتی کو انہی خدشات کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles