
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ حملوں کا اشارہ دے دیا ہے، جبکہ اسرائیل نے بھی ممکنہ جنگی صورتحال کے پیش نظر تیاریوں میں تیزی کر دی ہے۔ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے اور اہم فیصلوں کے لیے واشنگٹن میں مشاورت جاری ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے جب جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اس کی ضرورت ہے، تاہم امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کارروائی نہ کرتا تو ایران جوہری بم بنانے میں کامیاب ہو جاتا، لیکن واشنگٹن ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ امریکا ایران کی تقریباً 90 فیصد میزائل فیکٹریاں تباہ کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور اس کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا آبنائے ہرمز استعمال نہیں کرتا، تاہم ایران کو فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت ملنی چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ دوبارہ جنگ کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور عسکری تیاریوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر کو وائٹ ہاؤس میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے مختلف عسکری آپشنز پر بریفنگ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات آئندہ ہفتے کے آغاز میں ہی ناکام ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی کابینہ کے بعض وزراء کا خیال ہے کہ امریکا کو ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز میں عسکری کارروائیاں کرنا پڑ سکتی ہیں، جن میں ایرانی گیس اور توانائی کے تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
اُدھر امریکی اور اسرائیلی حکام ایران کے خلاف بحری سطح پر بھی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے نئی فوجی کارروائیوں پر غور کر رہا ہے، جبکہ ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ زمینی افواج کے ذریعے آبنائے ہرمز کے کچھ حصے پر کنٹرول حاصل کر کے تجارتی جہاز رانی بحال کی جائے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے پہلی بار جدید ہائپرسونک میزائل ”ڈارک ایگل“ مشرق وسطیٰ بھیجنے کی درخواست کی ہے، جسے ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل امریکا کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، لیکن ”وجودی خطرات“ کے خاتمے کے لیے جلد دوبارہ کارروائی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو گزشتہ ایک سال میں شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔