متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی تیل مارکیٹ اور خلیجی سیاست میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ تیل برآمد کرنے والے بڑے اتحاد اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس (OPEC+) سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتِ حال نے عالمی توانائی کی منڈی کو شدید متاثر کیا ہوا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی کا شکار ہے۔
یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی تیل پیداوار کی پالیسی، موجودہ اور مستقبل کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام قومی مفاد اور عالمی منڈی کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کے عزم کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور رکاوٹوں کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، تاہم طویل مدت میں عالمی توانائی کی طلب میں مسلسل اضافے کی توقع ہے۔ یو اے ای کا یہ فیصلہ یکم مئی سے نافذ العمل ہوگا۔

یو اے ای، جو طویل عرصے سے اوپیک کا اہم رکن رہا ہے، اس کے انخلا کو تنظیم کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے اوپیک کے اندر اتحاد کمزور پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب رکن ممالک کے درمیان پہلے ہی پیداوار اور سیاسی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم گزرگاہ ہے، پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ یہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، لیکن حالیہ ایرانی دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یو اے ای کا یہ فیصلہ ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ پہلے ہی اوپیک پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا خلیجی ممالک کو سیکیورٹی فراہم کرتا ہے جب کہ یہ ممالک بلند تیل قیمتوں کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت بھی اہم بن گئی جب یو اے ای نے ایران کے حملوں کے دوران دیگر عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے ناکافی حمایت پر تنقید کی۔ یو اے ای کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے خلیجی تعاون کونسل کے ردعمل کو تاریخی طور پر کمزور قرار دیا اور کہا کہ سیاسی اور عسکری سطح پر مطلوبہ تعاون دیکھنے میں نہیں آیا۔
مجموعی طور پر یو اے ای کا اوپیک سے علیحدگی اختیار کرنا نہ صرف عالمی تیل منڈی بل کہ خلیجی سیاسی اتحاد کے لیے بھی ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ آئل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) ایک بین الاقوامی گروپ ہے جو تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے اور عالمی تیل منڈی میں استحکام قائم رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اوپیک کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی مسلسل اور مناسب قیمت پر فراہمی یقینی بنائی جائے، پیداواری ممالک کو مستحکم آمدنی حاصل ہو اور سرمایہ کاروں کو مناسب منافع ملے۔
اوپیک کی بنیاد 1960 میں بغداد میں رکھی گئی تھی۔ اس کے بانی ممالک میں سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور وینزویلا شامل تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید ممالک شامل ہوتے گئے اور آج اس میں الجزائر، کانگو، ایکواٹوریل گنی، گبون، لیبیا، نائیجیریا، ایران، عراق، کویت، سعودی عرب اور وینزویلا شامل ہیں۔
اوپیک ممالک دنیا کی تقریباً 35 فیصد خام تیل پیدا کرتے ہیں جب کہ عالمی سطح پر تجارت ہونے والے تیل کا تقریباً 50 فیصد انہی ممالک سے آتا ہے۔ یہ ممالک باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور تیل کی پیداوار کے اہداف طے کرتے ہیں تاکہ عالمی قیمتوں میں استحکام رکھا جا سکے۔
2016 میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد اوپیک نے روس سمیت 10 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اوپیک پلس اتحاد تشکیل دیا تاکہ عالمی تیل مارکیٹ کو مشترکہ طور پر مستحکم رکھا جا سکے۔