
ماسکو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرز برگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایران نے امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا عزم دہرایا جب کہ روس نے خطے میں جلد امن کی امید ظاہر کی۔
روسی خبر رساں ادارے ٹی اے ایس ایس اور آر آئی اے نووستی کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات میں خطے کی صورتِ حال اور امریکا ایران جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پیوٹن نے کہا کہ روس ہر وہ اقدام کرے گا جو ایران اور خطے کے عوام کے مفاد میں ہو اور جلد از جلد امن کے حصول میں مدد دے۔ ان کے مطابق ماسکو کی پالیسی سب کے لیے واضح ہے اور وہ سیاسی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
روسی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے عوام نے مشکلات کے باوجود مزاحمت اور خودمختاری کا مظاہرہ کیا ہے اور امید ہے کہ یہ مرحلہ جلد ختم ہو گا۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران امریکا کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے گا۔ انہوں نے روس اور ایران کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے مزید تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
دونوں رہنماوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود رابطے اور سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جب کہ ایران نے موجودہ صورتِ حال کو اپنی قومی مزاحمت کا حصہ قرار دیا ہے۔