’نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے‘: حزب اللہ نے اسرائیل سے براہ راست مذاکرات مسترد کردیے

لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے ایک بار پھر اسرائیل ساتھ براہِ راست مذاکرات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی صورت میں ہتھیار نہیں ڈالے گی، دشمن کی دھمکیوں کے باوجود نہ وہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے اور نہ ہی شکست تسلیم کریں گے۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق پیر کو حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کو گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان کوغیرمستحکم کردے گی لہٰذا اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔

نعیم قاسم نے کہا کہ براہِ راست مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور لبنان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا راستہ ترک کرکے بالواسطہ مذاکرات کی پالیسی اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جلد بازی میں غیر ضروری رعایت دی ہے جسے حزب اللہ مسترد کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی مزاحمتی قوت نہ صرف برقرار ہے بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے حزب اللہ کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔

سربراہ حزب اللہ نے براہِ راست مذاکرات کے لیے پانچ اہم نکات بھی پیش کیے، جن میں اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ، مقبوضہ علاقوں سے انخلا، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی واپسی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ لبنانی حکومت کو داخلی سطح پر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ قومی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے اپنی مزاحمت جاری رکھے گی اور کسی دباؤ میں نہیں آئے گی۔

نعیم قاسم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہم اپنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے، چاہے دشمن کتنی ہی دھمکیاں دے، ہم نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے اور نہ ہی شکست تسلیم کریں گے اور یہ کہ اسرائیل لبنان میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔

لبنانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں 2 ہزار 500 سے زائد افراد ہلاک اور 16 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب 17 اپریل کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کی متعدد خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ واشنگٹن میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ادھر حزب اللہ کی جانب سے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles