پاکستان نے ایک بار پھر ایران پر حملے رکوا دیے، ٹرمپ کا سیز فائر میں توسیع کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان کی درخواست پر ایک بار پھر ایران پر حملے روکنے اور سیز فائر میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مدت میں اضافہ کر رہے ہیں، جو کہ بدھ کی شام ختم ہونے والی تھی، تاکہ ایرانی حکومت کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ اور متحد تجویز تیار کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔

صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ گزشتہ دو ہفتوں میں دوسری بار اپنے اس موقف سے پیچھے ہٹنے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں انہوں نے جنگ میں شدت لانے کی دھمکی دی تھی۔ اس فیصلے سے انہوں نے دو ماہ سے جاری اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے خود کو کچھ اور وقت دے دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق، واشنگٹن میں منگل کا دن سفارتی سرگرمیوں سے بھرپور رہا جہاں نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ ایئرفورس ٹو اسلام آباد روانگی کے لیے تیار تھا تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا ایک اور دور ہو سکے، لیکن کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی طیارہ پرواز نہ کر سکا اور مذاکرات ملتوی کر دیے گئے۔

جے ڈی وینس نے اپنے اسلام آباد کے دورے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے واشنگٹن میں بے یقینی کی صورتحال رہی، جبکہ ایران نے بھی ان مذاکرات میں شرکت کا کوئی باضابطہ وعدہ نہیں کیا تھا۔

اس صورتحال نے وائٹ ہاؤس کو اس مشکل میں ڈال دیا تھا کہ آیا اپنے نائب صدر کو ایسی جگہ بھیجا جائے جہاں تہران کے مذاکراتی میز پر آنے کی کوئی ضمانت ہی نہ ہو۔

صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا اور بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا ہے جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم سے درخواست کی گئی ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیا جائے جب تک ان کے رہنما اور نمائندے کوئی مشترکہ تجویز پیش نہیں کر دیتے۔

اس بار ٹرمپ نے جنگ بندی کے دورانیے کی کوئی خاص حد مقرر نہیں کی، جبکہ اس سے قبل انہوں نے دو ہفتوں کی مہلت دی تھی۔

عراق اور ترکیہ میں امریکا کے سابق سفیر جیمز جیفری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں ختم کرنے کا کوئی واضح فارمولا نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنہوں نے ایک طرف ایک اچھی ڈیل سامنے رکھی ہے اور دوسری طرف بڑے فوجی حملے کی دھمکی دی ہے۔

مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو برائن کٹولس نے اس فیصلے کو ایک عملی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی موجودہ قیادت میں واضح اختلافات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ امریکیوں کو پہنچنے والے معاشی نقصان اور اپنے حامیوں کے سیاسی دباؤ سے کیسے نمٹیں گے۔

اگرچہ جنگ بندی میں توسیع سے دونوں ممالک کو پائیدار امن کے لیے وقت مل گیا ہے، لیکن بڑے سوالات اب بھی برقرار ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی دراصل ایک جنگی کارروائی ہے، جبکہ ٹرمپ نے ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔

دوسری طرف ایران نے بھی اپنے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے یا مسلح گروہوں کی حمایت بند کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے، جو کہ ٹرمپ کی جانب سے کسی بھی امن معاہدے کے لیے بنیادی شرائط قرار دی گئی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles