
صدر ڈونلڈ صدر ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں جنگ کے دوران امریکا کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کے لیے امریکی آباد کاری کے پروگرام کو روکے جانے کے بعد انہیں افریقی ملک کانگو بھیجنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق، ان افغان اتحادیوں افراد کی تعداد تقریباً 1100 ہے جن میں امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے ترجمان، افغان اسپیشل فورسز کے سابق اہلکار اور امریکی فوجیوں کے اہل خانہ شامل ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس گروپ میں 400 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
یہ افغان شہری گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے قطر میں بے یقینی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد ان کی حفاظت کے پیش نظر وہاں منتقل کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے جنگ کے دوران امریکی افواج کا ساتھ دیا تھا۔
امدادی گروپ ’افغان ایویک‘ کے صدر شان وین ڈائیور نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے افغان شہریوں کی کانگو منتقلی کے منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان افغان شہریوں کو دو ہی راستے دیے جائیں گے، یا تو وہ طالبان کے زیر سایہ رہنے کے لیے واپس افغانستان چلے جائیں یا پھر کانگو چلے جائیں، جو خود اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہے۔
شان وین ڈائیور نے اس منصوبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خیال ہے یہ ان لوگوں کو واپس افغانستان بھیجنے کی ایک کوشش ہے جہاں انہیں یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شان وین ڈائیور نے کہا کہ امریکی حکام جانتے ہیں کہ افغان شہری کانگو جانا قبول نہیں کریں گے، بھلا کوئی دنیا کے نمبر ون بحرانی ملک سے نکل کر دوسرے نمبر کے بحرانی ملک میں کیوں جانا چاہے گا؟
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق کانگو میں پہلے ہی روانڈا اور وسطی افریقی جمہوریہ کے چھ لاکھ سے زائد پناہ گزین موجود ہیں اور وہاں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے پناہ گزین کیمپوں پر حملے عام ہیں۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے لاکھوں افغانوں کو امریکا لا کر عوام پر بوجھ ڈالا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اب جوابدہی کو بحال کرنا اور ذمہ دارانہ و رضاکارانہ آباد کاری کے متبادل ڈھونڈنا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ان لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہے جنہوں نے امریکا کا ساتھ دیا۔
سابق سینئر سفارت کار رینا امیری نے سوال اٹھایا کہ جب امریکا اپنے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ہی دھوکہ دے گا، تو مستقبل میں کون ان کے ساتھ مل کر لڑے گا؟
قطر میں موجود کیمپ السیلیہ میں مقیم بہت سے افغان شہریوں نے کانگو جانے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا سوال ہے کہ جب ان کے پیارے امریکا میں مقیم ہیں تو انہیں افریقہ کیوں بھیجا جا رہا ہے؟
’نو ون لیفٹ بیہائنڈ‘ نامی تنظیم کے اینڈریو سلیوان کا کہنا ہے کہ اگر یہ لوگ سیکیورٹی چیک میں کلیئر ہیں تو انہیں امریکا لایا جانا چاہیے، اور اگر کسی وجہ سے انہیں کسی تیسرے ملک بھیجنا ضروری ہے تو وہ ملک ایسا ہونا چاہیے جہاں ان کی زندگی محفوظ ہو اور وہاں انسانی حقوق کا بحران نہ ہو۔