
ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی کردی ہے، جہاں فوجی محاذ پر پیش رفت کے باوجود اندرونِ ملک معاشی دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور گرتی عوامی مقبولیت نے ٹرمپ کو جلد از جلد کسی سفارتی حل کی طرف دھکیل دیا ہے۔
ایران کے خلاف سات ہفتوں سے جاری جنگ نہ تو وہاں کی مذہبی قیادت کو ہٹا سکی ہے اور نہ ہی انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام مطالبات ماننے پر مجبور کر سکی ہے۔ تاہم اس تنازع نے امریکہ کے اتحادیوں اور مخالفین دونوں پر یہ واضح کردیا ہے کہ ٹرمپ کی سب سے بڑی کمزوری معاشی دباؤ ہے۔
اگرچہ ایران نے جمعہ کے روز آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا، لیکن مشرق وسطیٰ کے اس بحران نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ ٹرمپ اندرونِ ملک معاشی مشکلات کو زیادہ دیر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ٹرمپ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا تھا، جس کی وجہ انہوں نے سیکیورٹی خطرات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کو قرار دیا تھا۔ تاہم اب امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور اپنی مقبولیت میں کمی کے باعث وہ جلد کسی معاہدے کے خواہاں ہیں تاکہ اندرونی دباؤ کم کیا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق ایران کو فوجی طور پر نقصان ضرور ہوا ہے، لیکن اس نے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو جنم دے کر امریکا کو معاشی طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے، جس کا اندازہ ٹرمپ انتظامیہ کو نہیں تھا۔
اگرچہ ٹرمپ نے کئی مواقع پر جنگ کے باعث پیدا ہونے والے معاشی مسائل کو نظرانداز کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی صارفین کو متاثر کیا ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی عالمی کساد بازاری کے خطرے سے خبردار کیا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔
نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ وہ کانگریس میں اپنی معمولی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایرانی قیادت نے بھی اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کے ذریعے امریکا کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور روس جیسے ممالک بھی اس سے یہ سبق لے سکتے ہیں کہ ٹرمپ اگرچہ فوجی کارروائی کا رجحان رکھتے ہیں، لیکن جیسے ہی اندرونِ ملک معاشی دباؤ بڑھتا ہے، وہ سفارتی راستہ اختیار کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ معاشی استحکام اور ترقی کے ایجنڈے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ٹرمپ نے جلد ہی معاہدہ طے پانے کا عندیہ دیا ہے، تاہم ایرانی ذرائع کے مطابق اب بھی کئی اہم نکات پر اختلافات موجود ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جلد ختم بھی ہوجائے تو معاشی نقصانات کے ازالے میں مہینوں بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ آیا کوئی بھی ممکنہ معاہدہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے راستے کو روک سکے گا یا نہیں، جس کی تہران مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے آغاز پر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل بھی بے اثر رہی ہے۔
یورپ اور ایشیا کے اتحادی ممالک ابتدا میں اس فیصلے پر حیران تھے کہ ٹرمپ نے بغیر مشاورت جنگ کا آغاز کیا، جبکہ انہیں اس کے ممکنہ اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ نے یہ تاثر بھی دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر متوقع فیصلے کرسکتی ہے، جس سے اتحادی ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔
خلیجی عرب ممالک جہاں جنگ کے جلد خاتمے کے خواہاں ہیں، وہیں وہ اس بات پر بھی فکر مند ہیں کہ کہیں امریکہ ان کے سیکیورٹی مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ معاہدہ نہ کرلے۔
ٹرمپ کے حامیوں کی بڑی تعداد اب بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم کچھ حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا وہ آئندہ انتخابات میں اپنی جماعت کی پوزیشن بہتر بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے یا نہیں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کا ایک بڑا طبقہ، حتیٰ کہ کچھ ٹرمپ حامی بھی، اس جنگ کے فیصلے سے سخت اختلاف رکھتے ہیں، اور اس کے سیاسی نتائج جلد سامنے آسکتے ہیں۔