
ایران جنگ کے تقریباً 50 دنوں میں دنیا کو بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جہاں 50 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل پیدا ہی نہیں ہوسکا۔ ماہرین کے مطابق اس بحران کے اثرات فوری ختم ہونے والے نہیں بلکہ مہینوں سے لے کر برسوں تک عالمی معیشت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں اور رائٹرز کے اندازوں کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک دنیا 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے خام تیل سے محروم ہوچکی ہے۔ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے اس بحران نے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز کہا کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھول دی گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ جلد طے پا جائے گا، تاہم اس کا حتمی وقت واضح نہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک 50 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل اور کنڈینسیٹ عالمی منڈی سے غائب ہوچکے ہیں، جو جدید تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نقصان کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں 10 ہفتوں تک ہوائی سفر مکمل طور پر بند رہے، یا 11 دن تک دنیا میں کسی بھی قسم کی گاڑی نہ چلے، یا پانچ دن تک پوری عالمی معیشت کو تیل کی فراہمی نہ ہو۔
رائٹرز کے اندازوں کے مطابق یہ مقدار امریکا کی تقریباً ایک ماہ کی تیل کی طلب یا یورپ کی ایک ماہ سے زائد ضروریات کے برابر ہے۔
اسی طرح یہ مقدار امریکی فوج کی تقریباً چھ سال کی ایندھن ضروریات یا عالمی شپنگ انڈسٹری کو چار ماہ تک چلانے کے لیے کافی تھی۔
خلیجی عرب ممالک میں مارچ کے دوران یومیہ تقریباً 80 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار متاثر ہوئی، جو دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں کی مجموعی پیداوار کے قریب ہے۔
سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور عمان سے جیٹ فیول کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ فروری میں جہاں یہ برآمدات تقریباً 1 کروڑ 96 لاکھ بیرل تھیں، وہیں مارچ اور اپریل میں مجموعی طور پر صرف 41 لاکھ بیرل رہ گئیں۔ یہ کمی تقریباً 20 ہزار بین الاقوامی پروازوں کے ایندھن کے برابر ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران تیل کی اوسط قیمت 100 ڈالر فی بیرل رہی، جس کے باعث یہ مجموعی نقصان تقریباً 50 ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ رقم جرمنی کی سالانہ معیشت کے ایک فیصد کے برابر یا لٹویا اور ایسٹونیا جیسے ممالک کی مجموعی معیشت جتنی ہے۔
اگرچہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار اور ترسیل کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔
اپریل میں عالمی سطح پر ذخائر میں تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ بیرل کی کمی ہوچکی ہے، جبکہ پیداوار میں یومیہ تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ بیرل تک رکاوٹ آئی ہے۔
کویت اور عراق کے بڑے آئل فیلڈز کو مکمل بحال ہونے میں 4 سے 5 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ قطر کے راس لفان ایل این جی کمپلیکس سمیت توانائی کے دیگر انفراسٹرکچر کو مکمل بحال ہونے میں کئی سال لگنے کا امکان ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس بحران کے معاشی اثرات طویل عرصے تک عالمی معیشت پر بوجھ بنے رہیں گے۔