
معروف اینکر اور ’سرِعام فلاحی گروپ‘ کے سربراہ اقرار الحسن نے ایک نئی یوتھ سینٹرڈ عوامی تحریک اور سیاسی جماعت ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ اس موقع پر پارٹی کے پرچم بھی عوام کے سامنے پیش کیا گیا اور ابتدائی رجسٹریشن کے آغاز کا اعلان بھی آگاہ کیا گیا۔
لاہور پریس کلب میں اس حوالے سے جمعرات کو منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں اقرار الحسن نے کہا کہ ان کی جماعت کا بنیادی مقصد پاکستان کے سیاسی نظام میں حقیقی اور عملی تبدیلی لانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں برسوں سے رائج خاندانی اور روایتی سیاست نے نظام کو کمزور کیا ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو افراد کے بجائے مضبوط اداروں اور شفاف جمہوری عمل سے جوڑا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوام راج پارٹی کسی ایک فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں ہو گی بلکہ اس کے اصل مالک پاکستان کے عام شہری ہوں گے۔
اقرار الحسن نے اپنے خطاب میں یہ عہد بھی کیا تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو حاضر و ناظر جان کر کسی بھی سیاسی، حکومتی یا سرکاری عہدے کے حصول کی خواہش نہیں رکھیں گے۔
انہوں نے کہا ’اور میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کرتا ہوں کہ میں کوئی سیاسی، حکومتی یا سرکاری عہدہ نہیں لوں گا۔‘
انہوں نے کہا کہ آپ میں سے جتنے لوگ چاہیں، میں انہیں قائل کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اس تحریک کے نتیجے میں میں کسی بھی سیاسی جماعت سے، اس جماعت سمیت کوئی فائدہ نہیں اٹھاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں کبھی کوئی سیاسی، سرکاری یا حکومتی عہدہ نہیں لوں گا۔ نہ ہی میں اس عہدے کی توقع رکھوں گا۔ اور نہ ہی کسی کے اصرار پر اسے قبول کروں گا۔ کیونکہ مجھے فکری کام کرنا ہے۔
اقرار الحسن سید نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم نے فوجی راج دیکھا، بھٹو راج، خان راج اور گورنر راج دیکھا، لیکن اب اس ملک میں “عوام راج” ہو گا۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’ایک جمہوری جماعت کے قیام کی تحریک کو ہم “پاکستان عوام راج تحریک” کا نام دے رہے ہیں۔ دُعا ہے کہ اللہ اس تحریک کو پاکستان کے حق میں بہتر کرے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے نعرہ لکھا: ’اب راج کرے گی خلقِ خدا‘۔
قبل ازیں، انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوام کو بااختیار بنانا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ سیاسی جماعتیں دکان نہیں ہوتیں جنہیں کوئی شخص اپنی زندگی بھر چلاتا رہے، بلکہ یہ ادارے ہوتی ہیں جو عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان اور مغربی جمہوری نظام کا موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان میں سیاست چند ہی ناموں کے گرد گھومتی رہی، جبکہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت باقاعدہ جمہوری عمل کے ذریعے بدلتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہاں میرٹ کی بنیاد پر نئے لوگ آگے آتے ہیں اور پرانے رہنما اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر پاکستان میں سیاسی جماعتیں موروثی انداز میں چلائی جا رہی ہیں۔
اقرار الحسن نے کہا تھا کہ ان کا سیاست میں آنے کا واحد مقصد عوام کو اصل اختیار دینا اور اس نظام کو چیلنج کرنا ہے جسے وہ بظاہر جمہوریت لیکن عملی طور پر ایک بڑی آمریت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک افراد کے بجائے پورے نظام کے خلاف اجتماعی جدوجہد نہیں کی جائے گی، عوام کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔
یاد رہے کہ اقرار الحسن نے دسمبر میں نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ نئی جماعت کو 15 جنوری 2026 کو باضابطہ طور پر لانچ کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات کے لیے بھرپور تیاری کی جائے گی۔