
اسلام آباد میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پرمشتمل ڈائیلاگ کمیٹی بنائی جائے، کمیٹی سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو بڑھائے۔
ملک میں سیاسی درجہ حرارت نیچے لانے کے لیے اسلام آباد میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیراہتمام قومی ڈائیلاگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ ، شیر افضل مروت ، بیرسٹر سیف ، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور شہزاد وسیم شریک ہوئے۔
اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا طریقہ کار اور درجہ حرارت میں کمی کی تجاویز پیش کی گئیں، فواد چوہدری نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا، جس میں زور دیا گیا کہ پاکستان اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، جن کا حل صرف سنجیدہ اور جامع مکالمے میں ہے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے، کمیٹی سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کے عمل کو آگے بڑھائے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے قومی کانفرنس کا اعلان کردیا، سیاسی رابطے تیز
اعلامیہ کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، خواتین سیاسی ورکروں کو فوری طور پر بحال کیا جائے، سیاسی کارکنان کی رہائی کے بعد حکومت پر مذاکرات کا اعتماد بڑھے گا۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ میڈیا کی سنسر شپ کو ختم کیا جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات ختم کیے جائیں۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہو گا۔
واضح رہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کے اس اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی۔
قبل ازیں اجلاس کے آغاز میں مقررین نے کہا کہ ملک میں استحکام کے سیاسی استحکام ضروری ہے اور اس کے لیے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنے کی ضرورت ہے، ملک میں سیاسی پولرائزیشن، سول ملٹری تعلقات میں تناؤ، دہشت گردی، انصاف کی عدم فراہمی، میڈیا پر قدغنیں اور غیر منصفانہ انتخابی عمل نے ریاست کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
سیاسی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سیاسی قیدیوں بالخصوص بانی پی ٹی آئی اور خواتین کارکنوں کی رہائی، کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کے لیے ناگزیر ہے۔
رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ذاتی مفادات، عنا اور اقتدار کی سیاست نے قوم کو تقسیم کیا ہے اور اب شخصیت پرستی سے نکل کر ادارہ جاتی اصلاحات، آئین و قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور شفاف سیاسی عمل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس میں شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔
دوسری جانب نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اسلام آباد “نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ایک اچھا پلیٹ فارم ہے، ملک کو آگے لے جانے کے لیے ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا وزیراعظم کو خط؛ مذاکرات کے لیے شاہ محمود کی رہائی کا مطالبہ، عمران نظر انداز
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کو اس نہج تک پہنچانے کے لیے ہم سب ذمہ دارہیں، جب الیکشن کے منصفانہ نتائج نہ آئے، میڈیا آزاد نہ ہو تو نتائج معاشرے پر آئیں گے، اب وقت آگیا سب مل کر ساتھ بیٹھیں، سیاست دانوں، فوج اور ججز سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں گزشتہ 7 سال سے ہائی بریڈ نظام ہے، اس ہائی بریڈ نظام میں اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے، ہم نے گزشتہ سال صرف 30 ارب کی ایکسپورٹ کی ہے۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ جن ممالک کے لوگ خود انوسٹمنٹ نہ کریں باہر سے بھی لوگ نہیں کرتے، پیسہ وہاں انویسٹ ہوتا جہاں سے منافع آنا ہو، آج یہ ملک اشرافیہ کا ملک ہوگیا ہے، امیر کے لیے قانون اور ہے اور غریب کے لیے اور۔