ٹرمپ حملہ کیس: جج کی ملزم کے ساتھ جیل میں غیر مناسب سلوک پر معذرت

امریکا کی ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے الزام میں گرفتار شخص کے ساتھ جیل میں ہونے والے برتاؤ کو قانونی طور پر ناقص قرار دیتے ہوئے اس سے معذرت کی ہے۔

پیر کے روز واشنگٹن ڈی سی کی عدالت میں سماعت کے دوران مجسٹریٹ جج ضیاء فاروقی نے ملزم کول ایلن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جس صورتحال سے بھی گزرے ہیں، میں اس پر آپ سے معذرت خواہ ہوں۔

جج کا کہنا تھا کہ وہ ملزم کے لیے جیل میں قائم حالات پر پریشان ہیں کیونکہ ملزم کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور اس کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔

کول ایلن نامی 31 سالہ شخص پر الزام ہے کہ اس نے 25 اپریل کو ایک تقریب کے دوران صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام پر شاٹ گن سے فائرنگ کی کوشش کی تھی۔

جج ضیاء فاروقی نے سماعت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملزم کے ساتھ ایک انسان کے طور پر بنیادی شرافت کا برتاؤ کیا جائے۔

انہوں نے جیل انتظامیہ کے اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناکافی اور قانونی طور پر غلط ہے۔

ملزم کے وکلاء نے عدالت میں شکایات درج کروائی تھیں کہ ان کے موکل کو کسی خودکشی کے رجحان کے بغیر ہی نگرانی میں رکھا گیا، دن کے 23 گھنٹے ایک پیڈڈ سیل میں بند رکھا گیا اور اسے بائبل تک رسائی نہیں دی گئی۔

اگرچہ اب ملزم کو خودکشی کی نگرانی سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن وہ اب بھی سخت پابندیوں والی رہائش میں موجود ہے۔

استغاثہ کی نمائندہ جوسلین بیلانٹائن نے عدالت کو بتایا کہ گرفتاری کے بعد ملزم نے ایف بی آئی ایجنٹوں کو خود بتایا تھا کہ اسے اس حملے کے دوران اپنی بقا کی کوئی امید نہیں تھی۔

جج نے ریمارکس دیے کہ اگرچہ ایلن پر لگائے گئے الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، لیکن مقدمے سے پہلے کی حراست کا مقصد سزا دینا نہیں ہوتا۔

انہوں نے ملزم کے ساتھ ہونے والے سلوک کا موازنہ 6 جنوری کے کیپیٹل ہل حملے کے ملزمان سے کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے ساتھ زیادہ بہتر سلوک کیا گیا تھا حالانکہ ان کا طرز عمل بھی اسی نوعیت کا تھا۔

عدالت نے جیل کے وکیل کو حکم دیا ہے کہ وہ منگل کی صبح تک ملزم کی قید کی حتمی شرائط کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles