
حکومت نے ایک بار پھر اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق ابھی تک تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باقاعدہ رابطہ نہیں کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے لیے کوئی مثبت اقدام سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کا وفد اسپیکر کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وزیراعظم نے بھی اس سلسلے میں گرین سگنل دے دیا ہے، لیکن مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہوں گے، غیر منتخب نمائندوں کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔
قبل ازیں، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سنجیدہ مذاکرات کی خواہاں ہے اور اب فیصلہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے آگے آتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان ملک میں تشدد اور انتشار کی سیاست کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کسی نئے 9 مئی جیسے واقعے کی تلاش میں ہیں اور ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے چاہئیں اور مسائل کا حل صرف بات چیت اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ آئینی اور جمہوری عمل کے تحت مذاکرات میں حصہ لے کر ملک میں پائیدار امن اور استحکام قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔