
برطانیہ اور فرانس نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام اور ڈنمارک کی حکومت کا حق ہے۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایک بیان میں کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر برطانیہ ڈنمارک کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی کو درست نہیں سمجھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات میں بین الاقوامی قوانین اور عوامی رائے کا احترام ضروری ہے۔
فرانس نے بھی گرین لینڈ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدیں طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گرین لینڈ وہاں کے عوام کا ہے اور کسی بھی ملک کو زبردستی حدود بدلنے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وینزویلا کے معاملے میں عالمی قوانین کا احترام نہیں کیا گیا اور سلامتی کونسل کے مستقل اراکین، جن میں فرانس بھی شامل ہے، کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں، جس کی فرانس کھل کر مخالفت کرتا ہے۔
ادھر ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے یا دھمکی آمیز بیانات دینا بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو نہ تو ڈنمارک اور نہ ہی گرین لینڈ پر قابو پانے کا کوئی حق حاصل ہے اور قریبی اتحادی کے خلاف اس طرح کی باتیں ناقابل قبول ہیں۔
خلیج ٹائمز کے مطابق وزیراعظم فریڈرکسن نے واضح کیا کہ گرین لینڈ اور اس کے عوام فروخت کے لیے نہیں ہیں اور کسی بھی ملک کے لیے انہیں ضم کرنے کی بات بے معنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایک تاریخی اتحادی کے خلاف دھمکیاں نہیں دینی چاہئیں۔
یہ بیانات اس پس منظر میں سامنے آئے ہیں جب وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ وینزویلا کے معاملات مستقل طور پر سنبھالے گا۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کو گرین لینڈ دفاعی وجوہات کی بنا پر درکار ہے، نہ کہ معدنی وسائل کے لیے۔
اس معاملے پر اس وقت مزید بحث شروع ہوئی جب صدر ٹرمپ کی سابق معاون کیٹی ملر نے گرین لینڈ کی ایک تصویر امریکی پرچم کے رنگوں میں سوشل میڈیا پر شیئر کی اور اس کے ساتھ ’SOON‘ کا کیپشن لکھا۔
اس پر گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نلسن نے ردعمل دیتے ہوئے اسے توہین آمیز قرار دیا اور کہا کہ قوموں کے تعلقات باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی ہوتے ہیں، نہ کہ ایسے علامتی اشاروں پر جو کسی قوم کے حقوق کو نظرانداز کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ پریشانی یا خوف کی ضرورت نہیں، گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں اور اس کا مستقبل سوشل میڈیا پوسٹس سے طے نہیں ہوگا۔
ڈنمارک کے امریکہ میں سفیر جیسر مولر سیرنسن نے بھی اس بحث پر ردعمل دیتے ہوئے دوستانہ انداز میں یاد دلایا کہ ڈنمارک آرکٹک خطے میں سیکیورٹی کی کوششیں بڑھا چکا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
مجموعی طور پر یورپی ممالک کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ گرین لینڈ کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ طاقت یا دباؤ کے بجائے بین الاقوامی قوانین اور عوامی حق خود ارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔