ایران سے مذاکرات کے لیے صدر ٹرمپ نے نئی شرط عائد کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات کے لیے نئی شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اب تہران سے ماضی کی کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے معاوضہ طلب کرے گا۔ ٹرمپ کا بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا سے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ مانگنے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مؤقف اپنایا کہ اگر ایران گزشتہ پانچ ماہ کے فوجی تنازع کے دوران امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں سے ہونے والے نقصانات کے بدلے معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہے تو امریکا بھی ایران سے معاوضہ طلب کرے گا۔

صدر ٹرمپ کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے گزشتہ پانچ ماہ کے فوجی تنازع کے دوران ہونے والے نقصانات پر معاوضہ مانگ رہے ہیں تاہم ان کے بقول ایران نے امریکا کے ساتھ ہونے والے کسی بھی سابقہ مذاکرات یا ملاقات میں اس مطالبے کا ذکر نہیں کیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ گزشتہ 5 ماہ کا فوجی تنازع اس لیے شروع ہوا کیوں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے معاوضے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد اب وہ بھی ایران سے ان تمام افراد کی ہلاکتوں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات پر معاوضہ طلب کر رہے ہیں جو ان کے بقول ایرانی کارروائیوں میں متاثر ہوئے۔

انہوں نے روڈ سائیڈ بم دھماکوں اور دیگر تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے ان کارروائیوں میں ہلاک اور شدید زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کے لیے معاوضہ طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا بھی حوالہ دیا۔

صدر ٹرمپ نے یو ایس ایس کول (USS Cole) پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سمیت جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے ہزاروں دیگر افراد کے خاندانوں کے لیے بھی معاوضے کا مطالبہ کیا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو گزشتہ 50 برس کے دوران ملک میں احتجاج کرنے والے ان شہریوں کے خاندانوں کو بھی معاوضہ ادا کرنا چاہیے جنہیں ان کے بقول ایرانی حکومت نے ہلاک کیا۔ انہوں نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ہلاک ہونے والے 52 ہزار افراد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان ہلاکتوں پر بھی معاوضہ ادا کیا جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کردی ہے کہ ایران سے معاوضے کا مطالبہ مستقبل میں ہونے والے تمام مذاکرات میں واضح طور پر شامل کیا جائے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے پر امریکا سے معاوضے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ ایک روز قبل ایرانی پاسداران انقلاب کے بااثر عہدیدار محمد باقر ذوالقدر نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے متعدد مطالبات پیش کیے تھے۔

ایرانی مطالبات میں رواں سال ہونے والی جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے علاوہ جون 2025 کے تنازع کے نقصانات کا امریکی معاوضہ بھی شامل تھا۔ جون 2025 کی جنگ میں بنیادی طور پر اسرائیل نے کارروائیاں کی تھیں۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی معاوضے کا مطالبہ اور اس کے جواب میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران سے معاوضہ لینے کی شرط سامنے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نئی شرائط شامل ہوگئی ہیں۔

دونوں جانب سے معاوضے کے مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے کے قریب پہنچنے کے حوالے سے امید ظاہر کی گئی تھی تاہم تازہ مطالبات کے باعث فوری معاہدے کے امکانات متاثر ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران سے معاوضے کا مطالبہ اب امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے آئندہ مذاکرات کا حصہ ہوگا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles