
روس نے یوکرین پر نئے سال کی تقریبات کے دوران ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کے روز روس نے یوکرین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے نئے سال کی تقریبات کے دوران ڈرون حملے میں کم از کم 24 افراد کو ہلاک کردیا ہے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
روسی حکام کے مطابق یہ ڈرون حملہ یوکرین کے جنوبی خطے خیرسون کے ساحلی گاؤں خورلی میں ایک ہوٹل اور کیفے پر کیا گیا جو اس وقت روس کے کنٹرول میں ہے، جہاں شہری نئے سال کی آمد کا جشن منا رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد حملے کے نتیجے میں زندہ جل گئے۔
روس کے مقرر کردہ گورنر ولادی میر سالدو نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ یوکرین کے 3 ڈرونز نے ساحلی گاؤں خورلی میں شہری اجتماع کو نشانہ بنایا، جسے انہوں نے عام شہریوں کے خلاف دانستہ کارروائی قرار دیا۔
بعد ازاں روس کی وزارتِ خارجہ اور اعلیٰ روسی سیاسی شخصیات نے اس واقعے کو ”دہشت گرد حملہ“ قرار دیتے ہوئے یوکرین پر شدید تنقید کی۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 24 افراد کی ہلاکت اور 50 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں 6 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جنہیں اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈرونز نے جان بوجھ کر ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں شہری نئے سال کی شام منانے کے لیے جمع تھے اور اس کارروائی کو ”جنگی جرم“ قرار دیا۔
روسی سیکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے سرکاری خبر رساں ادارے ٹاس سے گفتگو میں کہا کہ ماسکو اس حملے کا جواب میدانِ جنگ میں دے گا اور حملے میں ملوث افراد اور ان کے کمانڈرز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ یوکرین کی مغربی حمایت کرنے والے ممالک بھی اس واقعے کے ذمہ دار ہیں۔ روسی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اسپیکرز سمیت کئی سینئر سیاست دانوں نے کیف کی مذمت کی ہے۔
ادھر یوکرین کی فوج نے، جو ماضی میں روس پر یوکرینی شہروں پر حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگاتی رہی ہے، اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملے کے بعد جاری کی گئی تصاویر اور روسی دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ جاری کردہ تصاویر میں ایک لاش سفید چادر کے نیچے دکھائی دیتی ہے جب کہ عمارت پر آگ لگنے کے واضح آثار اور زمین پر خون کے دھبے نظر آتے ہیں۔
واضح رہے کہ خیرسون ان 4 یوکرینی علاقوں میں شامل ہے، جنہیں روس نے 2022 میں اپنا حصہ قرار دیا تھا تاہم یوکرین اور بیشتر مغربی ممالک نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔