کراچی میں کھلا مین ہول ایک اور بچے کی جان لے گیا


کراچی میں کھلے مین ہول نے ایک اور ننھی زندگی نگل لی۔ کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں آٹھ سالہ بچہ کھیلتے ہوئے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔ اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر شہر میں کھلے مین ہولز اور ناقص انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مہران ٹاؤن کے سیکٹر 6 جی کی ایک گلی میں آٹھ سالہ دلبر دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک کھلے گٹر میں جا گرا۔ بچے کے گرنے کے فوراً بعد علاقے میں چیخ و پکار مچ گئی اور اہل محلہ موقع پر جمع ہو گئے۔ دلبر کی لاش کو نکالنے کے لیے گٹر میں سیڑھی اتارنی پڑی، جبکہ بچے کے چچا نے اندر اتر کر لاش باہر نکالی۔
غمزدہ خاندان کے مطابق دلبر اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ والد اظہر نے بتایا کہ گٹر کا ڈھکن تقریباً ایک ماہ سے غائب تھا اور متعلقہ اداروں کو متعدد بار آگاہ کیا گیا، لیکن کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کا سماں ہے اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں۔
حادثے کے بعد اہل علاقہ نے منتخب نمائندوں اور انتظامیہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ عوام سے وصول کیا جانے والا ٹیکس آخر عوام کی حفاظت اور بنیادی سہولتوں پر کب خرچ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلے مین ہولز روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں، مگر ذمہ دار ادارے ہر بار خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مہران ٹاؤن پہنچے اور جاں بحق بچے کے والدین سے تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ یونین کونسل کے چیئرمین کو دس دن پہلے دس گٹر ڈھکن فراہم کیے گئے تھے۔ ڈپٹی میئر کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اسے سخت سزا دی جائے گی۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر کراچی میں بنیادی شہری سہولتوں کی ابتر صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اب تک 27 افراد گٹروں اور نالوں میں گر کر جان کی بازی ہار چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کھلے مین ہولز کو فوری طور پر بند کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف عملی کارروائی کی جائے تاکہ مزید معصوم جانیں اس غفلت کی نذر نہ ہوں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles