آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، فرانس کا ایک جہاز محفوظ، دوسرے پر حملے کی اطلاعات

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فرانسیسی شپنگ کمپنی کے ایک جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمانی ساحل کا رخ کر لیا، جب کہ اسی کمپنی کے ایک اور جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں۔

’رائٹرز‘ کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق فرانسیسی شپنگ کمپنی کے کنٹینر بردار جہاز سیگون نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمان کے ساحل کے ساتھ سفر شروع کر دیا ہے۔ یہ جہاز اس سے قبل خلیجی پانیوں میں موجود تھا اور منگل کے روز آبنائے ہرمز کے اندر دیکھا گیا تھا۔

اعداد و شمار فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق بدھ کے روز یہ جہاز آبنائے سے نکل کر محفوظ راستے پر گامزن ہو گیا، جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم اسی فرانسیسی کمپنی کے ایک اور جہاز سان انتونیو پر منگل کے روز اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس حملے میں جہاز کے عملے کے بعض افراد زخمی ہوئے ہیں، کمپنی کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت بدستور خطرات سے دوچار ہے۔

دوسری جانب فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کے لیے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر دیا۔ فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق فرانسیسی بحریہ کا فلیگ شپ جہاز اپنے ہمراہ جنگی جہازوں کے ساتھ نہر سویز عبور کرتے ہوئے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب بڑھ رہا ہے۔

فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس اور اس کے شراکت دار نہ صرف آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں بل کہ اس کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فرانس چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ رکھا جائے۔ وزارت دفاع کے مطابق اس پیشگی تعیناتی کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں، اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے درکار وقت کم سے کم ہو۔

چارلس ڈیگال طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 20 رافیل جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس کے ساتھ کئی جنگی فریگیٹس بھی موجود ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles