
واشنگٹن ٹائمز نے ایک آرٹیکل میں سال 2025 کو پاک امریکا تعلقات میں فیصلہ کن اور انقلابی تبدیلی کا سال قرار دیا ہے۔ آرٹیکل کے مطابق واشنگٹن کا ’انڈیا فرسٹ‘ دور ختم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
امریکی جریدے واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی مختصر جنگ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں فیصلہ کن تبدیلی کی وجہ بنی۔
آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اس جھڑپ کے دوران پاکستان کی عسکری کارکردگی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حیران کیا۔ پاکستانی فوج کے ڈسپلن، اسٹریٹجک فوکس اور بہترین حکمتِ عملی کو امریکی توقعات سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا ہے۔
آرٹیکل کے مطابق اس پیش رفت کے بعد پاکستان کو دوبارہ ایک سنجیدہ علاقائی قوت کے طور پر دیکھا جانے لگا اور واشنگٹن میں ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور ختم ہوچکا ہے۔ 2026 میں پاکستان کو ٹرمپ کی ’گرینڈ اسٹریٹیجی‘ کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو سیزفائر پر بھارت کا سرد ردعمل سخت ناگوار گزرا، جبکہ پاکستان نے ثالثی کی کوشش کو قبول کیا۔ آرٹیکل کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر کے قریبی حلقوں میں نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے، یہی وجہ ہے کہ دونوں شخصیات کے تعلق کو ’برومانس‘ کہا گیا۔ آرٹیکل میں فیلڈ مارشل کو ’Disciplined Dark Horse‘ اور ’Deliberate Mystery‘ جیسے القابات سے نوازا گیا۔
آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ابتدا میں بھارت کو ’کواڈ‘ اور دیگر فورمز کے ذریعے بالادست بنانے اور اسلام آباد کو سائیڈ لائن کرنے کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم بھارت کے سیاسی حالات، شخصی آزادیوں پر پابندیوں، غیر یکساں عسکری کارکردگی اور سخت سفارتی رویے نے اسے ’ریجنل اسٹیبلائزر‘ کے طور پر مشکوک بنا دیا۔
واشنگٹن ٹائمز کے آرٹیکل کے مطابق وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ کو کسی پاکستانی عسکری سربراہ کے لیے پہلی مثال قرار دیا گیا ہے، جبکہ سینٹ کام ہیڈکوارٹرز میں فیلڈ مارشل کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوا اور امریکی عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطح اسٹریٹجک میٹنگ کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے۔
آرٹیکل میں ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے حوالے سے معتبر کردار ہو یا غزہ میں ممکنہ کلیدی کردار اور خطے کے دیگر معاملات میں پاکستان کو نمایاں طور پر اہم کردار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔2026 کے آغاز پر پاکستان کو امریکا کی گرینڈ اسٹریٹجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے۔ جس میں ایران سے متعلق معاملات، غزہ جنگ بندی اور خطے میں پاکستان کی بڑھتی اہمیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق نئی امریکی پالیسی کی پائیداری دہلی اور اسلام آباد کے رویے سے مشروط رہے گی، تاہم 2025 میں امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا کے توازن کو ازسرِنو ترتیب دینے میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق پاکستان کا ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک بن جانا اور امریکا میں پاکستان کے بارے میں رائے کا اس قدر تیزی سے بدلنا ایک منفرد واقعہ ہے، جبکہ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون کی حیثیت دی گئی ہے۔