سڈنی بیچ فائرنگ: حملہ آور نوید حیدرآباد سے تعلق رکھتا تھا، بھارتی پولیس

این ڈی ٹی وی کے مطابق آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر اتوار کو ہونے والی ہولناک فائرنگ کے واقعے میں ملوث دو افراد میں سے ایک کا تعلق بھارت کے شہر حیدرآباد سے تھا اور وہ تاحال بھارتی پاسپورٹ رکھتا تھا۔

بونڈی بیچ پر 14 دسمبر کو ہونے والے حملے میں یہودی تہوار ہنوکا کی تقریب کے دوران 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تلنگانہ پولیس نے منگل کو تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والا ملزم ساجد اکرم تھا، جسے حملے کے دوران آسٹریلوی پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

پولیس کے مطابق 50 سالہ ساجد اکرم نومبر 1998 میں طالب علم ویزا پر آسٹریلیا منتقل ہوا تھا۔ وہ حیدرآباد سے بیچلر آف کامرس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں بھارت سے گیا تھا۔ ساجد اکرم تقریباً 27 برس تک آسٹریلیا میں مقیم رہا، تاہم اس دوران اس کا حیدرآباد میں اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ محدود رہا۔

بھارٹی ٹی وی کے مطابق حکام نے بتایا کہ ساجد اکرم کا آخری دورۂ حیدرآباد 2022 میں ہوا تھا۔ اس کے باوجود اس نے بھارتی شہریت ترک نہیں کی اور بھارتی پاسپورٹ اپنے پاس رکھا، جبکہ اس کے دونوں بچے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، آسٹریلیا میں پیدا ہوئے اور آسٹریلوی شہری ہیں۔

پولیس کے مطابق خاندانی تنازعات کے باعث ساجد اکرم کے اپنے رشتہ داروں سے تعلقات برسوں پہلے ہی منقطع ہو چکے تھے، یہاں تک کہ وہ 2017 میں اپنے والد کے انتقال پر آخری رسومات میں بھی شریک نہیں ہوا۔

تلنگانہ پولیس کے سینئر حکام نے واضح کیا ہے کہ ساجد اکرم کی مبینہ انتہا پسندی کا بھارت سے کسی قسم کا نظریاتی یا عملی تعلق سامنے نہیں آیا۔ تفتیش کاروں کے مطابق آسٹریلیا میں قیام کے دوران اس کی سرگرمیوں پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم بھارت میں کسی نیٹ ورک سے روابط کے شواہد نہیں ملے۔

آسٹریلوی حکام کے مطابق اس حملے میں ساجد اکرم کے ساتھ اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم بھی شامل تھا۔ ساجد اکرم موقع پر ہلاک ہو گیا تھا، جبکہ نوید اکرم زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور پولیس کی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ آسٹریلیا کی وفاقی پولیس نے اس واقعے کو داعش سے متاثر دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں کی جانب سے استعمال کی گئی گاڑی، جو نوید اکرم کے نام پر رجسٹرڈ تھی، تحویل میں لے لی گئی ہے۔ گاڑی سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور داعش سے منسوب دو جھنڈے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے منظم طریقے سے کارروائی کی اور متاثرین کی عمر یا حالت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles