
امریکا میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے نئے سال کی رات لاس اینجلس اور اورنج کاؤنٹی میں بم حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی ناکام بناتے ہوئے 4 افراد کو گرفتار کرلیا، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے بتایا کہ منصوبے میں امیگریشن اہلکار اور سرکاری گاڑیاں بھی ہدف تھیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کے مطابق ایک مبینہ گروہ، جسے ”ٹرٹل آئی لینڈ لبریشن فرنٹ“ کہا جاتا ہے، نئے سال کی رات سے کیلی فورنیا میں متعدد بم دھماکے کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ گروہ خود کو فلسطین نواز، حکومت مخالف اور سرمایہ داری مخالف نظریات سے وابستہ بتاتا ہے اور اس گروہ کی منصوبہ بندی میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔
حکام کے مطابق ایف بی آئی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے منصوبے کو عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔ امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ سینٹرل ڈسٹرکٹ آف کیلی فورنیا میں دائر شکایت کے مطابق 4 افراد پر سازش اور غیر رجسٹرڈ تباہ کن ڈیوائس رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت ملزمان نے نئے سال کی رات لاس اینجلس کے علاقے میں 5 مختلف مقامات پر دھماکے کرنے کا ارادہ بنایا تھا، جن میں 2 امریکی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جانا تھا۔
دائر شکایت میں ملزمان کے نام آڈری الین کیرول، زیکری ایرن پیج، دانتے گیفیلڈ اور ٹینا لائی بتائے گئے ہیں۔ حلفیہ بیان کے مطابق نومبر میں آڈری کیرول نے ایک خفیہ ذریعے کو 8 صفحات پر مشتمل ہاتھ سے لکھی دستاویز دی، جس کا عنوان ”آپریشن مڈنائٹ سن“ تھا اور اس میں بم حملوں کی تفصیلات درج تھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کیرول اور پیج نے دیگر 2 ملزمان کو منصوبے میں شامل کیا جب کہ اس منصوبے کے تحت دھماکا خیز مواد تیار کرنے کے لیے سامان حاصل کرنا اور 12 دسمبر 2025 کو موجاوے صحرا کے ایک دور دراز علاقے میں تجرباتی دھماکے کرنا شامل تھا۔
امریکی حکام کے مطابق ایف بی آئی کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو ایک قابلِ استعمال بم تیار کرنے سے پہلے ہی روک لیا۔