مانیٹری پالیسی کا آخری اجلاس: شرح سود برقرار رہنے کا امکان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا جس میں ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لے کر شرح سود سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ ماہرین معیشت کے مطابق پالیسی ریٹ میں کمی کے امکانات کم ہیں اور امکان ہے کہ شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔ اجلاس میں ملک کے اہم معاشی اشاریوں، افراطِ زر، زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی اقتصادی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد شرح سود کے تعین سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ چار مسلسل اجلاسوں میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔ موجودہ اجلاس سے بھی یہی توقع کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگرچہ افراطِ زر میں کچھ حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم اس کے باوجود مانیٹری حالات کو نرم کرنے کا امکان کم ہے۔

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، شرح سود برقرار

ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا دباؤ ہے، جو معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے شرح سود کو مناسب حد تک سخت رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک محتاط پالیسی اپنانا چاہتا ہے تاکہ مہنگائی میں دوبارہ اضافے اور مالیاتی عدم استحکام سے بچا جا سکے۔ مانیٹری پالیسی کے فیصلے کا باضابطہ اعلان اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles