
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق وسطی شام میں ہفتے کے روز ہونے والے ایک حملے میں دو امریکی فوجی اہلکار اور ایک ان کا مترجم سویلین شہری ہلاک جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ داعش کے ایک واحد رکن نے گھات لگا کر کیا۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے مطابق سابق صدر بشار الاسد کے اقتدار سے خاتمے کے ایک سال بعد یہ پہلا واقعہ ہے جس میں شام میں امریکی افواج کو جانی نقصان پہنچا ہے۔
امریکی فوج نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اہل خانہ کو اطلاع دینے کے 24 گھنٹے بعد ظاہر کی جائے گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ اگر دنیا میں کہیں بھی امریکیوں کو نشانہ بنایا گیا تو امریکہ حملہ آوروں کو ڈھونڈ کر بے رحمی سے ختم کرے گا۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ شام کے تاریخی شہر تدمر (پالمیرا) کے قریب پیش آیا۔ سانا نے بتایا کہ اس حملے میں شامی سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار اور متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے عراق اور اردن کی سرحد کے قریب واقع التنف فوجی اڈے منتقل کیا گیا۔
سانا کے مطابق حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا، تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ دوسری جانب برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور شامی سیکیورٹی فورسز کا رکن تھا۔
واضح رہے کہ امریکا داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے تحت مشرقی شام میں سیکڑوں فوجی تعینات کیے ہوئے ہے۔ داعش کو 2019 میں عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق تنظیم کے خفیہ نیٹ ورکس اب بھی شام اور عراق میں سرگرم ہیں اور ان کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں۔