حماس نے مزید 4 لاشیں اسرائیل کے حوالے کردیں، ایک لاش کی یرغمالی نہیں، اسرائیل کا دعویٰ

حماس نے منگل کی شب مزید چار یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں، جس کے بعد اسرائیل کے حوالے کیے گئے مردہ یرغمالیوں کی تعداد 8 ہوگئی۔ تاہم اسرائیل نے کل شب حوالے کی گئی لاشوں میں سے ایک کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان کے یرغمالی کی نہیں ہے۔

غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت حماس کی جانب سے 48 اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس رہا کیا جانا تھا، جن میں سے 20 زندہ اور 28 مردہ یرغمالیوں کو حوالے کیا جانا تھا۔ اب تک تمام 20 زندہ یرغمالیوں سمیت 8 مردہ یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جاچکی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے منگل کی شب حماس کی جانب سے مزید 4 لاشیں وصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ انکی فرانزک تحقیقات کی جائیں گی۔

امدادی سامان کی آمد ورفت پر نئی پابندی

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں امدادی سامان لانے والے ٹرکوں کی تعداد کو نصف کر دے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ 600 امدادی ٹرکوں کے بجائے صرف 300 ٹرک روزانہ غزہ میں داخل ہو سکیں گے۔ اسرائیل کے مطابق اس فیصلے کا مقصد حماس کو سزا دینا ہے کیونکہ اس نے یرغمالیوں کی لاشیں بروقت واپس نہ کرکے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔

اسرائیل کا نیا دعویٰ

اسرائیلی فوج کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ منگل کی شب حماس کی جانب سے ریڈ کراس کے ذریعے حوالے کی گئی چار لاشوں میں سے ایک لاش ”کسی بھی یرغمالی سے میل نہیں کھاتی“۔

اسرائیل کی جانب سے اب یہ کہا جارہا ہے کہ انہیں 7 مردہ یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوچکی ہیں، جبکہ 21 یرغمالیوں کی لاشیں ابھی تک غزہ میں ہی موجود ہیں۔

تین لاشوں کی شناخت

اسرائیل افواج نے جن تین یرغمالیوں کی شناخت کی تصدیق کی، انکے متعلق دعویٰ کیا کہ 35 سالہ یوریل باروخ کو نومبر 2023 میں نووا میوزک فیسٹیول سے اغوا کیا گیا تھا۔ 20 سالہ تمیر نمروڈی 7 اکتوبر کو ایریز کراسنگ پر ایک تعلیمی افسر کے طور پر کام کر رہے تھے جبکہ 53 سالہ ایتان لیوی ٹیکسی ڈرائیور تھے جو 7 اکتوبر جنہیں غزہ کے قریب حماس نے قتل کیا اور بعد میں غزہ لے جایا گیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles