اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ”اسرائیلی صدارتی میڈل آف آنر“ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو یہ اعزاز غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی، جنگ بندی کے قیام، اور مشرقِ وسطیٰ میں نئے دور کی بنیاد رکھنے پر دیا جائے گا۔
اسرائیلی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر ٹرمپ نے اپنی انتھک کوششوں سے نہ صرف ہمارے پیاروں کو گھروں تک پہنچانے میں کردار ادا کیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسے نئے دور کی بنیاد رکھی ہے جو سلامتی، تعاون اور پائیدار امن کی امید پر قائم ہے۔‘
آئزک ہرزوگ نے کہا کہ ’میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہوگی کہ میں صدر ٹرمپ کو اسرائیل کا اعلیٰ ترین شہری تمغہ پیش کروں۔‘
ان کے مطابق یہ ایوارڈ آئندہ چند ماہ میں ایک خصوصی تقریب میں صدر ٹرمپ کو دیا جائے گا، تاہم آج ان کے اسرائیل پہنچنے پر انہیں باضابطہ طور پر اس فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ یہ اعزاز اُن شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اسرائیل یا بنی نوع انسان کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ 2013 میں یہ اعزاز پہلی بار کسی امریکی صدر، باراک اوباما، کو دیا گیا تھا جنہیں اسرائیل کی سلامتی مضبوط بنانے پر یہ اعزاز ملا تھا۔
صدر ٹرمپ آج اسرائیل پہنچیں گے جہاں وہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد ایک چار گھنٹے طویل دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ اسرائیلی پارلیمنٹ ”کنیسٹ“ سے خطاب کریں گے اور یرغمالیوں کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کو اسرائیل اور حماس دونوں نے گزشتہ ہفتے منظور کرلیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے، اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار واپسی، قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کے لیے خودمختار انتظامی نظام کے قیام کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
امریکی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان آج یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔