مصنوعی ذہانت کے رحم و کرم پر چلنے والا نیا ملک: بانی خود اپنے ہی فیصلے سے خوفزدہ

اے آئی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں، جہاں مصنوعی ذہانت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا رہی ہے وہاں فلپائن کے خوبصورت جزیرے ’پالاوان‘ میں ایک ایسا منفرد تجربہ شروع کیا گیا ہے جس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

سی این این کے مطابق ٹیکنالوجی فاؤنڈر ڈین تھامسن نے جزیرے کو ”اے آئی کے ذریعے چلنے والا ملک“ قرار دیتے ہوئے ایک ایسے نظامِ حکومت کا تصور پیش کیا ہے جہاں فیصلے انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کرے گی، اور یہی خیال مستقبل کی سیاست اور حکمرانی کے بارے میں نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

یہ کوئی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ریاست نہیں ہے۔ اس تجربے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں حکومت انسانوں کے بجائے ”اے آئی سسٹمز“ کے ذریعے چلانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

اس منفرد جزیرے کو ”سین سے آئی لینڈ“ کا نام دیا گیا ہے اور اسے چلانے کے لیے تاریخ کے عظیم لیڈروں کے افکار پر مبنی ڈیجیٹل کرداروں کی ایک کابینہ بنائی گئی ہے۔ ان کرداروں میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل، رومی شہنشاہ مارکس اوریلیئس، نیلسن منڈیلا، مہاتما گاندھی، اور لیونارڈو ڈاونچی جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔

ان تمام کرداروں کو ان کی زندگی میں لکھی گئی کتابوں، تقریروں اور تاریخی دستاویزات کے ڈیٹا کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ ڈین تھامسن کا ماننا ہے کہ کمپیوٹر سے چلنے والے یہ لیڈرز کسی ذاتی مفاد، رشوت ستانی یا سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بغیر، بالکل غیر جانبدار ہو کر صرف ڈیٹا اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے کر سکتے ہیں، جس سے موجودہ دور کے کرپٹ سیاسی نظام سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کو ایک شفاف متبادل مل سکے گا۔

اگرچہ اس جزیرے کو تاحال کوئی بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور اس کی مستقل آبادی میں فی الحال صرف ایک چوکیدار شامل ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا بھر سے اب تک 12 ہزار سے زائد افراد نے اس کے ’ای-رہائشی‘ بننے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ منصوبے کے تحت یہ رہائشی انٹرنیٹ کے ذریعے جزیرے کے قوانین اور پالیسیوں کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں گے، جس پر یہ اے آئی کابینہ آپس میں بحث کرے گی اور پھر ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔

ابتدائی طور پر ان فیصلوں پر عمل درآمد انسان کریں گے، لیکن مستقبل میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ یہ نظام اتنا خود مختار ہو جائے گا کہ ڈیجیٹل حکومت اپنے بینک اکاؤنٹس اور کرپٹو والیٹس کے ذریعے خود ہی مزدور اور ٹھیکیدار ہائر کر کے جزیرے کے ترقیاتی کام کروا سکے گی۔

دوسری طرف، مصنوعی ذہانت کے ماہرین اس پورے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایتھکس ان اے آئی کی ایک ماہر الونڈرا نیلسن نے اس دعوے کو بالکل مضحکہ خیز اور غیر جمہوری قرار دیا ہے۔

تاہم اس خیال پر ماہرین نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ابھی اس سطح پر نہیں پہنچی کہ اسے ریاستی معاملات جیسے حساس اور پیچیدہ نظام کا مکمل اختیار دیا جا سکے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اے آئی کبھی کبھار غلط یا نقصان دہ فیصلے بھی کر سکتا ہے، اور اگر اسے مکمل اختیار دے دیا جائے تو یہ خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی ایک کمپنی یا شخص کے کنٹرول میں ایسا نظام ہو تو اسے واقعی جمہوری کیسے کہا جا سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے بانی خود بھی اس بات پر مکمل یقین نہیں رکھتے کہ یہ تجربہ کامیاب ہوگا۔ وہ اسے ایک ”سوشل ایکسپیریمنٹ“ قرار دیتے ہیں، جس میں نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس نظام میں سب سے بڑا چیلنج انسانوں کا کردار ہے، کیونکہ لوگ اے آئی کو ایسے فیصلوں کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں جو طاقت کے غلط استعمال یا توسیع پسندی پر مبنی ہوں۔

یہ تجربہ ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا مستقبل میں واقعی حکومتیں ’اے آئی‘ کے حوالے کی جا سکتی ہیں، یا یہ سب صرف ایک تجرباتی خیال ہے جو انسان اور مشین کے تعلق کی حدوں کو آزمانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ فی الحال سین سے آئی لینڈ ایک حقیقی ریاست سے زیادہ ایک تجرباتی لیبارٹری محسوس ہوتا ہے جہاں ٹیکنالوجی، سیاست اور اخلاقیات کے درمیان نئی سرحدیں تلاش کی جا رہی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles