انڈونیشیا نے اسرائیلی کھلاڑیوں کو ورلڈ جمناسٹک چیمپئن شپ کے لیے ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیمپئن شپ 19 سے 25 اکتوبر تک جکارتہ میں منعقد ہونی ہے جس میں 86 ممالک کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ مگر اس فیصلے کے بعد اسرائیل ان مقابلوں میں شریک نہیں ہوسکے گا۔
سرکاری خبررساں ایجنسی انتارا کے مطابق سینئر وزیر یسرل احزا مہندرہ (Yusril Ihza Mahendra) نے اسرائیلی کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”انڈونیشیا فلسطین کی آزادی کے لیے اپنے غیر متزلزل مؤقف پر قائم ہے۔“
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ایتھلیٹس کو ویزے جاری نہ کرنے کا فیصلہ صدر پرابوو سوبیانتو کی اقوام متحدہ میں حالیہ تقریر کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ جس میں انہوں نے اسرائیل کے غزہ پر حملوں کی شدید مذمت اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کی تھی۔
جکارتہ کے گورنر پرامونو انونگ (Pramono Anung) نے بھی اسرائیلی کھلاڑیوں کی ایونٹ میں شرکت کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ”بطور گورنر میں اسرائیلی کھلاڑیوں کو جکارتہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دوں گا۔“
انڈونیشیا نے فیفا انڈر ٹوئنٹی ورلڈکپ 2023 کے موقع پر بھی اسرائیلی ٹیم کی میزبانی سے انکار کیا تھا جس پر فیفا نے ایونٹ سے دو ماہ قبل ہی انڈونیشیا سے میزبانی واپس لے لی تھی۔
اس مرتبہ بھی کئی مذہبی تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے اسرائیلی کھلاڑیوں کی شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد حکومت نے اسرائیلی ایتھلیٹس کو ویزے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔