
وزیر داخلہ محسن نقوی دو روزہ سرکاری دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ دورہ اسلام آباد کی خطے میں مذاکرات اور امن کے فروغ کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اپنے دورے کے دوران محسن نقوی کی ایرانی قیادت کے ساتھ اہم اور دوطرفہ ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں خطے کی موجودہ صورتِ حال، بالخصوص ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان اس موقع پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں فریقین کو مذاکراتی عمل میں لچک دکھانے اور سفارتی حل اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔
پاکستانی حکام کے مطابق خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانا اس دورے کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے، جب کہ اسلام آباد پہلے بھی مختلف مواقع پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی حالیہ عرصے میں خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی منڈی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے۔
9 سے 11 مئی کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات شامل تھے، جنہیں امریکا نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد تہران پہنچا تھا۔ وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورۂ ایران کے دوران ایران کی اعلٰی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی تھیں، جسے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی گئی۔