جنگ بندی کے لیے پرعزم ہیں،اسرائیل کے جال میں نہیں آئیں گے، حماس

فلسطینی تنظیم حماس نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ ہم جنگ بندی کیلئے پرعزم ہیں، ہم اسرائیل کے جال میں نہیں آئیں گے، اسرائیل ٹرمپ کے منصوبے کو سبوتاژ کررہا ہے، غزہ میں پر مسلسل حملے کررہا ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے ایک مکمل بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی برائے نیک نیتی کی خواہاں ہے، مگر اس کے باوجود وہ اسرائیل کے سیاسی جال میں نہیں پھنسنا چاہتی۔ تنظیم نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور ٹرمپ کے امن منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے متعدد واضح مؤقف بھی پیش کیے ہیں۔

حماس نے اعلان کیا ہے کہ مذاکرات جلد اور جامع انداز میں ہوں گے اور معاہدے پر طے پانے کے بعد فوری عمل درآمد کیا جائے گا، کیونکہ یہ تنظیم کے مفاد میں ہے۔

حماس نے ثالث فریقین کو یرغمالیوں کی فہرست فراہم کی ہے اور کہا ہے کہ تمام زندہ یرغمالیوں کو ایک ہی بار واپس کیا جائے گا۔ تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیلی لاشیں جمع کرنا شروع کر چکی ہے اور ان کی حوالگی کے لیے اسرائیل سے بمباری کا فوری توقف ضروری ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ ”اسرائیل جانتا ہے کہ ہمارے پاس کتنے یرغمالی زندہ اور مردے ہیں۔“

حماس کا کہنا ہے کہ امریکا نے قطر کے ذریعے انہیں ضمانت دی ہے کہ ان کے رہنماؤں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اس ضمانت کی روشنی میں تنظیم نے مختلف مذاکراتی نکات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

حماس نے بیان کیا کہ وہ ہتھیار بین الاقوامی نگرانی کے تحت رکھے جانے اور بعض ہتھیار فلسطینی و مصری انتظامی اداروں کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے اس عمل کو پیچیدہ اور وقت طلب قرار دیا۔

حماس نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل ٹرمپ کے امن منصوبے کو سبوتاژ کر رہا ہے اور مسلسل غزہ پر بمباری کر رہا ہے، جو مذاکرات کی پیش رفت کو متاثر کر رہی ہے۔

حماس نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک فضائی حملے بند نہیں ہوں گی، قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات اور معاہدے کے بعد بغیر دیر کے فوری عملدرآمد کی خواہاں ہے، مگر مکمل یقین دہانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles