
ٹروپیکل سائیکلون وارننگ سینٹر نے سمندری طوفان ”شکتی“ کے حوالے سے نواں الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شدید سمندری طوفان ’شکتی‘ بحیرہ عرب کے شمال مغرب حصے میں کراچی سے تقریباً 700 کلومیٹر جنوب مغرب میں ہے۔
اتوار کو محکمہ موسمیات نے شمال مغربی بحیرہ عرب میں شدید سمندری طوفان شکتی کے حوالے سے 9 واں الرٹ جاری کردیا ہے۔ جس کے مطابق یہ طوفان اس وقت کراچی سے تقریباً 700 کلومیٹر جنوب مغرب میں موجود ہے اور گزشتہ 6 گھنٹوں کے دوران جنوب مغرب کی سمت میں مسلسل حرکت کرتا رہا۔
طوفان کی موجودہ پوزیشن اور پیشگوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کا مرکز 21.0 درجے شمالی عرض بلد اور 61.8 درجے مشرقی طول بلد پر واقع ہے۔ طوفان آئندہ 24 گھنٹوں میں رفتہ رفتہ کمزور پڑنے کا امکان ہے تاہم طوفان 6 اکتوبر تک مغرب اور جنوب مغرب کی طرف بڑھتا رہے گا اور بعد ازاں اپنی سمت تبدیل کرکے دوبارہ مشرق کی طرف مڑ سکتا ہے۔
ہواؤں اور موسم کی صورت حال
طوفان کے مرکز کے گرد 110 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شدید ہوائیں چل رہی ہیں، شام تک ہواؤں کی شدت میں مزید کمی متوقع ہے، ساحلی پٹی پر اس وقت سمندری ہواؤں کی رفتار 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ جھکڑوں کی شدت 55 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ طوفان کے زیرِ اثر سندھ اور بلوچستان کے ساحلی اضلاع میں کہیں کہیں ہلکی بارش کا امکان ہے۔
سمندری حالات
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ عرب میں سمندری حالات انتہائی طغیانی کی شکار ہیں۔ آئندہ 36 گھنٹوں کے دوران شمال مغربی اور وسطی بحیرہ عرب میں بلند و شدید لہروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح 5 سے 7 اکتوبر کے دوران بحیرہ عرب میں طوفانی کیفیت برقرار رہنے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
ماہی گیروں اور متعلقہ اداروں کے لیے ہدایت
محکمہ موسمیات نے ماہی گیروں کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ ان دنوں گہرے سمندر میں جانے سے گریز کریں کیوں کہ سمندری سفر نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
ادارے نے مزید کہا کہ طوفان کی نگرانی مسلسل جاری ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی جاری کردہ ایڈوائزریز پر فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طوفان بتدریج کمزور ضرور پڑے گا لیکن اس کے اثرات ساحلی پٹی اور سمندری حالات پر چند روز تک برقرار رہ سکتے ہیں۔