
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور قیام امن کے لیے پیش کئے گئے 20 نکاتی منصوبے کی حمایت کے بعد ملک بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے؟ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ امن منصوبے کو قبول کرنے کے بعد پاکستان پر براہم اکورڈ کے تحت اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا۔
امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق اس دباؤ کے بڑھنے کے تین اہم اسباب ہو سکتے ہیں:
1۔ پاکستان اور سعودی عرب کا حالیہ دفاعی معاہدہ۔
2۔ پاک۔امریکا تعلقات کی نئے سرے سے بحالی۔
3۔ پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت۔
مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ ’فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ابراہم اکارڈز میں شمولیت پاکستان کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی اور عوام کی جانب سے غالباً اسے مسترد کر دیا جائے گا‘۔
ٹرمپ انتظامیہ کے تحت 2020 میں ابراہم اکارڈز کے ذریعے متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس عمل میں شامل ہوئے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ابراہم اکارڈز کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو کیا پاکستان پر بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے؟
پاکستانی حلقوں میں ردِعمل
پاکستان میں اس حوالے سے رائے تقسیم ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے ٹرمپ پلان میں کچھ مثبت نکات تسلیم کیے، جیسے فلسطینی نسل کشی کے خاتمے، غزہ میں اسرائیلی قبضے سے انکار، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی ریاست کے اصولی حق کو تسلیم کرنا۔
تاہم انہوں نے اس منصوبے کی کمزوریاں بھی اجاگر کیں، جن میں فلسطین کو دو حصوں میں بانٹ دینا، ٹونی بلیئر جیسے متنازع شخص کی شمولیت اور فلسطینی قیادت کو نظرانداز کرنا شامل ہیں۔
مشاہد حسین کے مطابق اگر اس منصوبے میں ایک متحد فلسطینی ریاست کے قیام کی ٹائم لائن شامل نہ کی گئی تو اسے کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔
دوسری طرف سماجی کارکن جبران ناصر نے پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی جانب سے ٹرمپ منصوبے کا خیرمقدم کرنے کو ’’اسرائیل کے جنگی جرائم پر مہرِ تصدیق‘‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق غزہ میں قحط، قتل عام اور تباہی کے باوجود اسرائیل کو عالمی سطح پر جوابدہ نہیں بنایا جا رہا، بلکہ اسے مزید تقویت دی جا رہی ہے۔
پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے ایکس پر ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر تمام مسلمان ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کو ”سرینڈر“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مسلمان دنیا نے مکمل طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اس (اعلامیے) میں فلسطینی ریاست کا ذکر بھی نہیں کیا گیا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’پاکستان اگر فلسطین کی ریاست کے قیام سے قبل ابراہیم اکارڈ کو تسلیم کرتا ہے تو یہ بہت بڑی غلطی ہو گی۔‘
موجودہ حالات اور امکانات
ایسے وقت میں جب اسرائیل غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور مغربی کنارے کو ضم کرنے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے، پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی مہم عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔
اگرچہ بعض حلقے اقتصادی اور سکیورٹی دلائل دیتے ہیں کہ پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات سے بھارت۔اسرائیل تعلقات کا توڑ کیا جا سکتا ہے یا امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، مگر عوامی جذبات ابھی تک فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تاریخی اور اندرونی تناظر
پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث کوئی نئی نہیں۔ 1993ء کے اوسلو معاہدے کے بعد بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ جب مصر، اردن اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں تو کیا پاکستان بھی ایسا کرے؟ مگر ہر بار اندرونی سیاسی، مذہبی اور عوامی دباؤ نے ایسا ہونے نہیں دیا۔
فلسطین کے معاملے پر کئی دہائیوں سے پاکستان کا ایک تاریخی مؤقف رہا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے ماضی میں یہ کئی بار دہرایا گیا ہے کہ پاکستان فلسطینیوں کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی جدودجہد میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔
پاکستان کی سرکاری پالیسی واضح ہے: جب تک فلسطینی ریاست قائم نہ ہو اور او آئی سی اجتماعی طور پر اسرائیل کو تسلیم نہ کرے، پاکستان ایسا قدم نہیں اٹھائے گا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ او آئی سی کے کئی ممالک پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔
منگل کو جب پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی اس ضمن میں بڑا واضح پالیسی ہے جس میں کوئی تبدیل نہیں کی گئی ہے۔‘
حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر افنان اللہ خان نے ایکس پر جاری پوسٹ میں لکھا کہ ’اس منصوبے سے عرب اور مسلم ممالک کے ذریعے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس پر دباؤ ڈالنا ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کوئی بے وقوف ہی نیتن یاہو پر اعتماد کر سکتا ہے۔‘
عالمی طاقتیں کامیاب ہوں گی؟
ماہرین کے مطابق پاکستان پر ابراہم اکارڈز کے دوسرے مرحلے میں شامل ہونے کا دباؤ یقینی طور پر بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر پاک۔سعودی دفاعی معاہدے اور امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے بعد۔ عالمی طاقتیں پاکستان کو اس سمت دھکیلنے کی کوشش کر سکتی ہیں، مگر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان کی راہ صرف اسی وقت ہموار ہو سکتی ہے جب فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کیا جائے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک دیرپا اور منصفانہ امن قائم ہو۔ بصورت دیگر، پاکستان کو اس معاملے میں سخت مزاحمت اور اندرونی عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔