اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خطاب کے دوران متعدد عرب اور مسلم ممالک کے نمائندے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے، جس کے باعث ایوان کی کئی نشستیں خالی رہیں۔
نیتن یاہو نے اپنی تقریر کے دوران دعویٰ کیا کہ ”ہم نے امریکا کے ساتھ مل کر ایران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا ہے، اور اسے کسی صورت ایسا کرنے نہیں دیں گے۔“
ان کا کہنا تھا کہ ایران عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسرائیل، امریکا کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ جاری رکھے گا۔
تاہم ان کے اس خطاب پر مسلم اور عرب ممالک نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا، جس کے نتیجے میں جنرل اسمبلی کا ہال نمایاں طور پر خالی دکھائی دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ ایک علامتی احتجاج تھا، جو غزہ میں اسرائیلی جارحیت، فلسطینیوں کے قتلِ عام اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف عالمی ناراضگی کی عکاسی کرتا ہے۔