پاک-سعودی معاہدہ اسرائیل مخالف نہیں، ایران اور امریکا کے لیے ہے، اسرائیلی میڈیا رپورٹ

اسرائیلی محقق یوئل گوزانسکی نے اپنے ایک مضمون میں سعودی عرب اور پاکستان کے حالیہ دفاعی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کوئی نیا عملی یا جنگی اتحاد نہیں بلکہ علامتی حیثیت رکھتا ہے، اور صرف دنیا کو دکھانے کے لیے ہے۔ یوئل گوزانسکی کے مطابق یہ معاہدہ دراصل ان تعلقات کا تسلسل ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔

اسرائیلی اخبار ”یروشلم پوسٹ“ میں شائع مضمون میں لکھا گیا ہے کہ اگرچہ معاہدے میں یہ کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ، دونوں پر حملہ تصور ہوگا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ہر حال میں ایک دوسرے کے لیے جنگ لڑیں گے۔

یوئل لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے پاکستان پہلے ہی 1960 کی دہائی سے سعودی عرب میں فوجی بھیج رہا ہے۔ اس وقت بھی تقریباً 1500 سے 2000 پاکستانی فوجی سعودی عرب میں موجود ہیں جو تربیت، مشاورت اور سیکورٹی کے کام کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ معاہدہ کوئی نیا موڑ نہیں بلکہ پرانے تعلقات کو ایک باضابطہ شکل دیتا ہے۔

سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد حوثیوں کی پاکستان کو دھمکی، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

AAJ News Whatsapp

انہوں نے سب سے حساس نکتے ایٹمی ہتھیاروں پر بھی تبصرہ کیا۔ یوئل کے مطابق برسوں سے یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ اگر کبھی سعودی عرب کو ضرورت پڑی تو پاکستان اسے ایٹمی ہتھیار یا تحفظ دے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں سعودی عرب نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے مالی مدد بھی دی تھی۔ لیکن حالیہ معاہدے میں ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی ذکر نہیں ہے اور پاکستان بار بار یہ کہہ چکا ہے کہ اس کا ایٹمی ہتھیار صرف بھارت کے خلاف دفاع کے لیے ہے۔

یوئل گوزانسکی نے کہا کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل نے قطر میں حملہ کیا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ سعودی عرب کو خدشہ ہے کہ وہ خطے میں تنہا نہ ہو جائے، اس لیے سعودی عرب دنیا کو دکھانا چاہتا ہے کہ اس کے پیچھے پاکستان جیسا طاقت ور اور ایٹمی ملک موجود ہے۔

ان کے مطابق، حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ کوئی غیر مشروط فوجی مدد کی ضمانت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر 2015 میں جب سعودی عرب نے یمن میں جنگ شروع کی تھی تو پاکستان نے اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ سعودی عرب پاک-بھارت جنگ میں براہِ راست مداخلت کرے۔ اس لیے اس معاہدے کی حیثیت سیاسی اعلان جیسی ہے تاکہ دنیا کو پیغام دیا جا سکے اور امریکا کو بتایا جا سکے کہ خلیجی ممالک اب دوسرے آپشنز بھی دیکھ رہے ہیں۔

گوزانسکی کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات دفاع تک محدود نہیں ہیں۔ ان میں تیل کے قرضے، مالی امداد، لاکھوں پاکستانی ورکرز کی ملازمتیں اور حج جیسے رشتے بھی شامل ہیں۔ نیا معاہدہ ان تعلقات کو مزید نمایاں کرتا ہے لیکن یہ تعلقات پہلے سے ہی موجود تھے۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ: بھارت اور اسرائیل کے لیے نیا چیلنج؟

اسرائیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تل ابیب کو اس معاہدے کو اپنے خلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ خاموشی سے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائے تاکہ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔

آخر میں انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کا یہ معاہدہ زیادہ تر علامتی ہے۔ اس کا مقصد ایران کو پیغام دینا، سعودی عوام کو اعتماد دینا اور امریکا کو باور کرانا ہے کہ خلیجی ممالک کے پاس اب متبادل راستے بھی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles