ایمباپے یا ہالینڈ؟ فیفا ورلڈ کپ میں سب کی نظریں فرانس اور ناروے کے میچ پر

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کا ایک اہم ترین اور سب سے زیادہ سخت مقابلہ ہفتے کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے بوسٹن میں کھیلا جائے گا، جہاں فرانس اور ناروے کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ دونوں ٹیمیں اپنے اپنے ابتدائی دونوں میچز جیت کر پہلے ہی ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کر چکی ہیں تاہم اس میچ کے نتیجے سے گروپ آئی میں پہلی پوزیشن کا فیصلہ ہوگا۔

فرانس اور ناروے نے اپنے پہلے 2 میچوں میں سینیگال اور عراق کو شکست دے کر 6،6 پوائنٹس حاصل کیے ہیں تاہم بہتر گول فرق کی بنیاد پر فرانس گروپ میں سرفہرست ہے جب کہ ناروے دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ اس صورت حال میں فرانس کو گروپ فاتح بننے کے لیے صرف ایک ڈرا درکار ہوگا۔

میچ سے قبل ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر اور کپتان ایرلنگ ہالینڈ کے بیان نے توجہ حاصل کر لی ہے۔ سینیگال کے خلاف دو گول کرکے ناروے کو راؤنڈ آف 32 میں پہنچانے والے ہالینڈ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس اسپورٹس سے گفتگو میں کہا کہ انہیں فرانس کے خلاف میچ کی زیادہ فکر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”سچ کہوں تو مجھے اس میچ کی زیادہ پروا نہیں، ہم اگلے مرحلے میں پہنچ چکے ہیں، جو ایک شاندار کامیابی ہے۔ فرانس شاید ہمیں ہرا دے اور ممکن ہے پورا ٹورنامنٹ بھی جیت لے“۔

اگرچہ ہالینڈ کا بیان حیران کن تھا لیکن ناروے کو آسان حریف تصور نہیں کیا جا رہا۔ ناروے نے اب تک گروپ مرحلے میں فرانس سے زیادہ گول اسکور کیے ہیں تاہم دفاعی کمزوری کے باعث دونوں میچوں میں 3 گول بھی کھائے ہیں۔

گولڈن بوٹ کی دوڑ بھی اس میچ کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے، ہالینڈ اور ایمباپے دونوں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں تاہم اس وقت لیونل میسی اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔

دوسری جانب فرانس کی تیاریوں کو ایک غیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فرانسیسی فٹبال فیڈریشن کے مطابق قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپس اپنی والدہ کے انتقال کے بعد تربیتی کیمپ چھوڑ کر فرانس واپس چلے گئے ہیں تاکہ آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔

فرانسیسی فٹبال فیڈریشن نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ ڈیڈیئر ڈیشامپس کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہے۔

ڈیشامپس کی غیر موجودگی میں معاون کوچ گائے اسٹیفن کو عبوری طور پر ٹیم کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے اور وہ ناروے کے خلاف ٹیم کی قیادت کریں گے۔ اگرچہ مختصر وقفے کے باعث ٹیم میں کچھ تبدیلیوں کا امکان ہے تاہم فرانس کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔

فرانس نے پیر کو فلاڈیلفیا میں عراق کے خلاف موسم سے متاثرہ میچ میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس وقت اس کا گول فرق پلس 5 ہے، جس کی وجہ سے وہ گروپ میں سرفہرست ہے۔

گروپ فاتح بننے کی صورت میں فرانس کو راؤنڈ آف 32 میں کسی تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں سویڈن ممکنہ حریف ہو سکتا ہے، اس کے بعد آخری 16 کے مرحلے میں جرمنی کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ بھی زیر بحث ہے۔

اس کے برعکس اگر فرانس گروپ میں دوسرے نمبر پر آتا ہے تو اس کا راستہ زیادہ مشکل ہو سکتا ہے، ایسی صورت میں پہلے ناک آؤٹ مرحلے میں آئیوری کوسٹ اور بعد ازاں برازیل یا نیدرلینڈز جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ کوارٹر فائنل میں انگلینڈ بھی ممکنہ حریفوں میں شامل ہے۔

گروپ آئی میں فرانس، ناروے، سینیگال اور عراق شامل ہیں۔ دو میچوں کے بعد فرانس اور ناروے 6،6 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں جب کہ سینیگال اور عراق تاحال کوئی پوائنٹ حاصل نہیں کر سکے۔

ورلڈ کپ 2026 میں پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں شریک ہیں، جس کے باعث ٹورنامنٹ کے فارمیٹ میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب 12 گروپس کی ٹاپ 2 ٹیموں کے علاوہ بہترین 8 تیسرے نمبر کی ٹیمیں بھی اگلے مرحلے یعنی راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

فرانس اور ناروے پہلے ہی ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا چکے ہیں تاہم سینیگال اور عراق کے درمیان ہونے والے میچ کی فاتح ٹیم بھی تین پوائنٹس کے ساتھ اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس کا گول فرق بہتر ہو اور دیگر گروپس کے نتائج بھی اس کے حق میں آئیں۔

بوسٹن میں ہونے والا فرانس اور ناروے کا مقابلہ نہ صرف گروپ کی پہلی پوزیشن کا فیصلہ کرے گا بلکہ ایمباپے اور ہالینڈ کے درمیان گولڈن بوٹ کی دلچسپ دوڑ کو بھی مزید گرما دے گا، جس پر دنیا بھر کے فٹبال شائقین کی نظریں مرکوز ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles