پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے سے بھارت کیوں پریشان ہے؟

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے نے بھارت میں کھلبلی مچا دی ہے۔ معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ کار اور یوریشیا گروپ کے صدر ایان برَیمر کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ معاہدہ بھارت کی زندگی بدل دے گا‘۔

ایان برَیمر نے بھارتی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس دفاعی معاہدے کے بعد بھارت کو اپنی سلامتی کے تمام حساب کتاب دوبارہ ترتیب دینے پڑیں گے کیونکہ پاکستان اب اکیلا نہیں ہے، سعودی عرب بھی اس کے دفاع میں کھڑا ہوگا۔

مذکورہ سیکورٹی معاہدہ اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر حملے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ریاض کے دوران طے پایا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں کو بھی سعودی دفاعی حصار کا حصہ تسلیم کرتا ہے، یعنی کسی بھی ہنگامی صورت میں سعودی عرب پاکستان کی جوہری قوت کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے استعمال کر سکے گا۔

بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ کنول سبل نے ایکس پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اس معاہدے کا مطلب ہے کہ اب سعودی عرب کے فنڈز پاکستان کی فوج کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ بظاہر پاکستان کُھلے عام عرب ممالک کو اسرائیل کے خلاف جوہری سکیورٹی فراہم کرنے کی بات کر رہا ہے۔‘

AAJ News Whatsapp

اگرچہ اس معاہدے کی زیادہ تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں تاہم پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی کوئی ذیلی یا خفیہ شرائط نہیں ہیں۔

الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں تک رسائی ہوگی؟

جس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’یہ معاہدہ دفاع کے لیے ہے جس کا مقصد ہرگز جارحانہ نہیں۔۔۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے لیے بھی کسی بھی ممکنہ صورتحال میں مدد گار ہوں گی، لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں آخری بار جوہری ہتھیاروں کا استمعال ہیروشیما پر ہوا تھا اور خوش قسمتی سے اب دنیا نیوکلئیر جنگوں سے محفوظ ہے اور اُمید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی ایسا کچھ نہیں ہو گا۔‘

پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، خواجہ آصف

’بھارت کے حساب کتاب مکمل طور پر بدل جائیں گے‘

ایان برَیمر نے مزید کہا کہ ’اگر بھارت کو پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا سامنا رہتا ہے تو کسی بھی فوجی جھڑپ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اب اگر ایسا ہوتا ہے اور سعودی عرب پاکستان کے دفاع کے لیے تیار کھڑا ہے تو بھارت کے حساب کتاب مکمل طور پر بدل جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے اعتماد کا ایک نیا باب ہے۔ پاکستان کا اصل اتحادی چین ہے جو اسے عسکری امداد اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی پاکستان نے نئی سمتوں میں بھی تعلقات بنائے ہیں۔

برَیمر کے مطابق ’سعودی عرب کا پاکستان کے جوہری پروگرام کی مالی معاونت کرنا کوئی راز نہیں، یہ برسوں سے سب جانتے ہیں۔ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اپنی ایمرجنسی ایٹمی چھتری سمجھتا رہا ہے۔ اب پہلی بار اس سوچ کو باقاعدہ معاہدے کی شکل دے دی گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یہ فیصلہ اس لیے کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہ کرے بلکہ اپنے اتحادیوں کا دائرہ وسیع کرے۔ یہ قدم براہِ راست پاکستان کو مضبوط کرے گا اور بھارت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کرے گا۔

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ بالکل ممکن ہے کہ پاکستان اب سعودی عرب کی رقم کو امریکی ہتھیار خریدنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جس کی اسے ضرورت ہے۔‘

دوسری جانب اسرائیل کے حالیہ حملے میں قطر میں ایک سیکورٹی افسر کی ہلاکت اور امریکا کی خاموشی نے سعودی عرب کو مزید ناراض کیا ہے۔

برَیمر کے مطابق، ’امریکا نے نہ اسرائیل کو روکا اور نہ اس پر دباؤ ڈالا، یہ سعودی عرب کے لیے ناقابلِ قبول رویہ ہے، اسی لیے وہ اب پاکستان جیسے قابلِ اعتماد شراکت دار کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم انڈیا کی قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اس معاہدے کے مضمرات کا مطالعہ کریں گے۔ حکومت انڈیا کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔‘

بھارت نے اس معاہدے پر ”قریبی نظر رکھنے“ کا اعلان کیا ہے لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق نئی دہلی شدید دباؤ میں ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles