آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایرانی ڈرون حملے جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایران کے ڈرون حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر چار ڈرون حملے کیے، ایک ڈرون تجارتی جہاز سے ٹکرایا جب کہ تین کو امریکی افواج نے فضا میں ہی تباہ کردیا۔

جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کم از کم 4 خودکش (ون وے اٹیک) ڈرون داغے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان میں سے ایک ڈرون ایک بڑے اور انتہائی قیمتی مال بردار جہاز کے اوپری حصے سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا تاہم وہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بقیہ 3 خودکش ڈرونز کو امریکی افواج نے فضا میں ہی مار گرایا، واضح طور پر یہ ہمارے جنگ بندی معاہدے کی ایک احمقانہ خلاف ورزی ہے۔

یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر 3 بحری جہازوں کا راستہ روک دیا تھا، ایرانی نیوی کا کہنا تھا کہ تینوں جہاز مقررہ راستے سے ہٹ کر سفر کررہے تھے جب کہ پاسداران انقلاب کی وارننگ کے بعد جہاز واپس مڑ گئے۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو متوازی راستوں اور ایران کو نظر انداز کرکے محفوظ نہیں بنایا جاسکتا،انتظامی فریم ورک اسلام آباد میمورنڈم کی شق 5 کے مطابق ہونا چاہیے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں متوازی بحری راستے کی معطلی ناگزیر ہوگی۔

کچھ دیر قبل ایرانی افواج کی مشترکہ کمانڈ خاتم الانبیا سنٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان  نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمسایہ ممالک کی فضائی حدود میں اسرائیلی طیارے ایران کی جانب آتے دیکھے گئے، ہمسایہ ممالک کی فضاؤں میں اسرائیلی طیاروں کی موجودگی خطرناک اقدام ہے، ایران اس اقدام کو اپنی قومی سلامتی کیلئے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہا تو ایران مناسب جواب دینے کا حق رکھتا ہے، ایران اپنے خلاف کسی بھی خطرے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں ایک مفاہمتی معاہدے کے تحت جنگ بندی نافذ ہوئی تھی اور دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے تاہم آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے اس تازہ واقعے نے جنگ بندی کی پائیداری پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جب کہ خلیجی ممالک بھی ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles