فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے پہلی بار ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کو تقریباً دو سال ہو چکے ہیں اور انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ قرارداد اگرچہ ڈیموکریٹس کی طرف سے پیش کی گئی ہے لیکن اس کے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں کیونکہ ایوان میں ریپبلکنز کی اکثریت ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں برطانیہ کے وزیرِاعظم کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے موقف سے اختلاف ظاہر کیا ہے۔

قرارداد کے مرکزی محرک سینیٹر جیف مرکلی نے کہا کہ ’’امریکہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قیادت کرے، اور یہ عمل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘ ان کے مطابق فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل اور فلسطین دونوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگا اور امن کے امکانات کو تقویت دے گا۔

یہ قرارداد امریکی ایوانِ نمائندگان میں بھی رو کھنہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت میں ایک خط جاری کرنے کے ساتھ ہی سامنے آئی ہے۔ روکھنہ ایک امریکی سیاست دان اور وکیل ہیں جو 2017 سے کیلیفورنیا کے 17 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ اقدامات قانون سازوں میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں جو اسرائیل پر جنگ ختم کرنے اور غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔

AAJ News Whatsapp

اس قرارداد کو پیش کرنے والوں میں ڈیموکریٹ سینیٹرز کرس وین ہولن، ٹم کین، پیٹر ویلچ، ٹینا سمتھ، ٹیمی بالڈون اور میزی ہیرونو کے علاوہ ایک آزاد سینیٹر برنی سینڈرز بھی شامل ہیں جو ڈیموکریٹس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ سینڈرز بدھ کے روز پہلے امریکی سینیٹر بن گئے جنہوں نے غزہ میں ہونے والے واقعات کو نسل کشی قرار دیا۔

اس قرارداد کا امریکی سینیٹ میں منظور ہونا مشکل ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے اس موقف سے اختلاف کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے، اور کسی بھی ریپبلکن سینیٹر نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی۔ اس کے باوجود، یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے عین مطابق ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی کمیشن نے حال ہی میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے، جبکہ اسرائیل نے ان نتائج کو متعصبانہ قرار دیا ہے۔ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دنیا کے رہنماؤں کی ملاقات کے ساتھ ہی امریکہ کے چند اتحادی بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles