
بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جبکہ سیلابی صورتحال میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے صوبے کے 7 اضلاع میں فوج کو طلب کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے انسانی جانوں کے تحفظ اور بروقت امدادی کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب کے 7 اضلاع لاہور، اوکاڑہ، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، سرگودھا اور نارووال میں فوج طلب کرنے کی منظوری دی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی میدان میں موجود ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔ تاہم ممکنہ خطرات کے پیش نظر سول انتظامیہ کی معاونت اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو فوج تعیناتی کے لیے مراسلہ لکھ دیا ہے، جس کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سیلابی صورتحال میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے، بھارت کی آبی جارحیت سے پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے۔
مراسلے کے مطابق فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد طے ہوگی، سیلابی علاقوں میں آرمی ایوی ایشن سمیت دیگروسائل فراہم ہوں گے جبکہ پنجاب حکومت کےتمام ادارے سیلابی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔
بھارت نے دریائے راوی پر قائم تھین ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے
بھارت نے دریائے راوی پر قائم تھین ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں پانی 2 لاکھ 10 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق کوٹ نیناں پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ آئندہ 48 گھنٹوں میں جسڑ شاہدرہ اور ہیڈ بلوکی سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزرے گا۔
لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، ساہیوال، فیصل آباد سمیت متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر اونچے درجے، شاہدرہ پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ جسڑ پر ایک لاکھ 42 ہزار کیوسک پانی دریائے راوی میں داخل ہو رہا ہے جبکہ شاہدرہ پر پانی کا بہاؤ 56 ہزار کیوسک ہے۔
بھارت سے آنے والا پانی ہیڈ مرالہ کے راستے پاکستان میں داخل
بھارت سے آنے والا پانی ہیڈ مرالہ کے راستے پاکستان میں داخل ہوگیا ہے جبکہ سیلابی ریلا ہیڈ خانکی پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دریا کے کنارے آباد گاؤں ٹھٹھی بلوچ سمیت کئی دیہاتوں میں پانی داخل ہو چکا ہے۔
پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند
پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جب کہ اطراف کی آبادیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
پاکپتن
دریائے سَتلج میں اونچے درجے کے سیلاب کے تازہ الرٹ کے بعد پاکپتن میں بڑے پیمانے پر دریا کے کنارے میں آباد لوگوں کا اِنخلا جاری ہے۔
ریسکیو عملہ اِنسانی خدمت کی اعلیٰ مثال بن گیا، جہاں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر مُنتقل کردیا گیا۔
حافظ آباد
حافظ آباد میں قادرآباد بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جس کے باعث ضلعی انتظامیہ نے 6 فلڈ ریلیف سینٹر اور 123 بوٹنگ پوائنٹس قائم کر دیے ہیں جبکہ دریا میں پانی کی آمد میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔
دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پی ڈی ایم اے نے چند گھنٹوں بعد انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ ہونے کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ننکانہ صاحب
ننکانہ صاحب میں دریائے راوی کے ہیڈ بلوکی مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ سیلابی ریلہ کئی دیہات میں داخل ہوچکا ہے، جس سے کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔
کوٹ مومن
دریائے چناب میں پانی بڑھنے سے سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے 41 دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ قریبی دیہات سے آبادی کا انخلا جاری ہے۔