
خیبر پختونخوا کے سینٹ انتخابات پر دو گروپوں میں بھٹ گئی، منت سماجت کے بعد بھی پی ٹی آئی کے سینٹ کے امیدوار عرفان سلیم اور خرم ذیشان کا ہر صورت میں سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر عرفان سلیم اور خرم ذیشان کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی ناراض رہنما عرفان سلیم نے کہا ہے کہ ہم الیکشن لڑیں گے۔
خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کو اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی کے نامزد ناراض سینیٹ امیدواروں نے پارٹی فیصلے کے برخلاف کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے ہر صورت انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ناراض امیدواروں میں عرفان سلیم، خرم ذیشان اور عائشہ بانو شامل ہیں، جنہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ سینیٹ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور کسی بھی دباؤ یا جماعتی فیصلے کے آگے نہیں جھکیں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں سینیٹ کے امیدواروں کے ناموں کا باضابطہ اعلان کیا گیا تھا اور دیگر امیدواروں سے کاغذات واپس لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم عرفان سلیم اور خرم ذیشان نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔
عرفان سلیم اور خرم ذیشان کا کہنا تھا کہ ہم ہرگز اسٹیبلشمنٹ کے اس گندے نظام کا حصہ نہیں بنیں گے، اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر نامزد امیدواروں نے پارٹی فیصلے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو ڈسپلنری کارروائی کی جائے گی۔
پارٹی کی جانب سے بغاوت پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ممکنہ طور پر ان امیدواروں کی رکنیت بھی معطل کی جا سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے قریب آتے ہی پی ٹی آئی کو اندرونی سطح پر اختلافات اور گروپ بندی کا سامنا ہے، جو آنے والے دنوں میں جماعت کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔