
پاکستان ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (وائیکو) کا بانی رکن بن گیا ہے۔ اس نئی بین الحکومتی تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، مؤثر گورننس اور محفوظ و منصفانہ ترقی کو فروغ دینا ہے۔
چین کے شہر شنگھائی میں جمعرات کو ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (وائیکو) کے قیام کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان سمیت 29 ممالک نے اس تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔
دستخطی تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں پاکستان، روس، انڈونیشیا، قازقستان، لاؤس سمیت مختلف ایشیائی اور افریقی ممالک کے نمائندوں نے بانی اراکین کی حیثیت سے معاہدے پر دستخط کیے۔
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔ جس کے ساتھ ہی پاکستان اس نئی بین الحکومتی عالمی تنظیم کا بانی رکن بن گیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس موقع پر پاکستان نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے تناظر میں مساوی ترقی کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود عالمی تقسیم کو کم کرنے، اے آئی ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور ترقی کے ثمرات کو زیادہ سے زیادہ ممالک تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے گا۔
چین کی قیادت میں قائم ہونے والی اس بین الاقوامی تنظیم میں زیادہ تر ممالک کا تعلق گلوبل ساؤتھ ریجن اور ترقی پذیر خطوں سے ہے۔ تنظیم کے رکن ممالک میں چین، پاکستان، روس، برازیل، انڈونیشیا، قازقستان، بیلاروس، سربیا، کیوبا، وینزویلا اور لاؤس سمیت 29 ممالک شامل ہیں۔
معاہدے کے مطابق وائیکو ایک آزاد بین الحکومتی بین الاقوامی تنظیم ہوگی، جس کا مستقل ہیڈکوارٹر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔
چینی میڈیا کے مطابق معاہدے میں واضح ہے کہ یہ تنظیم اقوامِ متحدہ کے منشور اور اصولوں کی پاسداری کرے گی اور رکن ممالک کے درمیان وسیع مشاورت، مشترکہ تعاون اور باہمی مفاد کے اصولوں کو فروغ دے گی اور ساتھ ہی ہر معاملے میں انسانی مفادات کو بنیادی ترجیحات میں شامل رکھا جائے گا۔