
پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورت حال کے پیش نظر پاک فوج اور پنجاب پولیس نے بھرپور ریسکیو اور ریلیف آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فوجی ہیلی کاپٹرز، جوانوں اور پولیس اہلکاروں کی مشترکہ کاوشوں سے درجنوں متاثرین کو بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ضلع جہلم کے رسول نگر خورد، برہان نالہ، ڈھوک بھیدر اور داراپور سمیت کئی مقامات پر شدید طغیانی دیکھی گئی، جہاں ریسکیو ٹیمیں متاثرہ افراد کو ہیلی کاپٹرز کی مدد سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ فوجی اہلکار متاثرین کو لائف جیکٹس، خوراک، طبی امداد اور دیگر ضروری سامان بھی فراہم کر رہے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت پاک فوج کے دستے مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوج آزمائش کی اس گھڑی میں متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے بھی تمام متاثرہ اضلاع میں پولیس ریلیف آپریشن تیز کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ لاہور سے جاری بیان میں آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس ٹیمیں شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران (ڈی پی اوز) خود امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
پنجاب پولیس کے کنٹرول سنٹرز سے صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، جبکہ دریا کنارے آباد دیہات میں باقاعدہ پٹرولنگ بھی جاری ہے۔ ڈاکٹر عثمان انور نے ہدایت کی ہے کہ ضلعی حکومت، ریسکیو اداروں اور دیگر متعلقہ ایجنسیز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔