پہلی ٹرپل سنچری، چھ چھکے اور منفرد ریکارڈز کے حامل کرکٹ لیجنڈ گیری سوبرز انتقال کر گئے

کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر سر گارفیلڈ سوبرز (گیری سوبرز) 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ، تین مختلف انداز میں بولنگ اور غیر معمولی فیلڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے گیری سوبرز نے اپنے دو دہائیوں پر محیط کیریئر میں کئی ریکارڈز قائم کیے۔ وہ آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کم عمر ترین ٹرپل سنچری بنانے والے بلے باز ہیں۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ نے جمعے کو سر گیری سوبرز کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ سر گارفیلڈ سوبرز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔‘ ادارے نے ان کی تصویر کے ساتھ ’لیجنڈ، آئیکون، ہیرو‘ کے القابات بھی تحریر کیے۔

ان کے انتقال کے ساتھ کھیل کا ایک سنہری باب اختتام کو پہنچ گیا لیکن ان کے ریکارڈز اور کارنامے آج بھی کرکٹ کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

ان کے انتقال پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سر گارفیلڈ سوبرز کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جاائے گا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انہیں کرکٹ کا حقیقی آئیکون اور کھیل کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک قرار دیا اور ان کی بھارتی کرکٹرز سے ملاقات کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔

انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے بھی انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سر گارفیلڈ سوبرز کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں سر گارفیلڈ سوبرز کو کرکٹ کے حقیقی آئیکون اور عظیم ترین آل راؤنڈرز قرار دیا ہے۔

گیری سوبرز نے 1954 سے 1974 کے دوران ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 93 ٹیسٹ میچ کھیلے۔ اس دوران انہوں نے 57.78 کی شاندار اوسط سے 8 ہزار 32 رنز بنائے جب کہ 235 وکٹیں بھی حاصل کیں، ان ہی ریکارڈز کی بدولت انہیں کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں شمار کیا جاتا ہے۔

کھیل کے میدان سے ہٹ کر بھی انکی زندگی کے کئی پہلو بہت مشہور ہوئے۔ وہ 28 جولائی 1936 کو بارباڈوس کے علاقے سینٹ مائیکل میں پیدا ہوئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیدائش کے وقت ان کے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک اضافی انگلی تھی، جنہیں انہوں نے بچپن میں خود ہی کاٹ کر علیحدہ کر دیا تھا۔

ان کے والد کینیڈین مرچنٹ نیوی میں ملازم تھے، تاہم دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن حملے میں ان کا جہاز ڈوب گیا، گیری سوبرز چھ بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھے اور اس وقت صرف پانچ برس کے تھے۔ سر گیری سوبرز نے اپنی خودنوشت میں لکھا کہ ان کی والدہ نے ہر مشکل کے باوجود بچوں کی تعلیم، خوراک اور ضروریات کا بھرپور خیال رکھا۔

صرف 16 برس کی عمر میں انہوں نے بارباڈوس کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھا جس میں انہوں نے 28 ہزار سے زائد رنز اسکور کیے اور ایک ہزار سے زیادہ وکٹیں بھی حاصل کیں اور 1954 میں ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل ہوگئے۔

انہوں نے 21 برس کی عمر میں پاکستان کے خلاف ناقابلِ شکست 365 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی جو اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی۔

سر گیری سوبرز کو فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اوور میں مسلسل چھ چھکے لگانے والے پہلے بلے باز ہونے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ کارنامہ انہوں نے ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے گلیمورگن کے بولر میلکم نیش کے خلاف انجام دیا تھا۔

ناٹنگھم شائر کرکٹ کلب نے انہیں کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین آل راؤنڈر اور اپنی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ملکہ الزبتھ دوم نے کرکٹ کے لیے غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں سر گارفیلڈ سوبرز کو ’نائٹ ہڈ‘ سے نوازا۔ جنوبی افریقہ کے معروف رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی انہیں پسندیدہ کرکٹر قرار دیا تھا۔

سنہ 1999 میں کرکٹ کے ایک سروے میں سر گیری سوبرز کو 20ویں صدی کے پانچ عظیم کرکٹرز میں شامل کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں آسٹریلیا کے عظیم بلے باز سر ڈونلڈ بریڈمین سرفہرست تھے۔ 1998 میں انہیں بارباڈوس حکومت نے انہیں 10 قومی ہیروز میں شامل کیا جب کہ ان کے نام سے اسپورٹس کمپلیکس بھی قائم کیا گیا جہاں اب کھیلوں کے بڑے مقابلے اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles