
حکومت کی جانب سے غیر قانونی مقیم تارکین وطن کے انخلا کی مہم بلا تعطل جاری ہے۔ پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک 1336 افراد کو متعلقہ اداروں کی مدد سے ملک سے ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2772 سے زائد غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو ہولڈنگ سنٹرز پہنچایا گیا، جبکہ 2810 غیر قانونی مقیم افراد پہلے سے ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں۔
پنجاب بھر میں غیر قانونی تارکین کے انخلا کے لیے 46 ہولڈنگ سنٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ان افراد کو متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ تمام غیر قانونی مقیم تارکین کو ہر صورت واپس بھجوانا ضروری ہے اور انخلا کے عمل کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی کے لیے مختلف سکیورٹی ادارے، سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس بیسڈ انفارمیشن کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی پاسداری کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ انخلا کا عمل شفاف اور منصفانہ ہو۔
راولپنڈی اور اٹک میں آپریشن
راولپنڈی اور اٹک میں غیر قانونی افغان شہریوں کے انخلا کے لیے آپریشن جاری ہیں۔ راولپنڈی سے 353 سے زائد افراد کو کیمپ منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں پولیس آپریشنز بھی جاری ہیں۔ ان افراد کو افغانستان منتقل کرنے کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔
اٹک میں بھی 700 سے زائد افغان باشندوں کو ضلع کیمپ منتقل کیا جا چکا ہے، اور 200 سے زائد افغان شہریوں کو طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان بھیجا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں غیر ملکیوں کا انخلا
خیبر پختونخوا میں یکم اپریل سے اب تک 6700 افراد پر مشتمل 944 غیر ملکی خاندانوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ ان خاندانوں میں 2874 مرد، 1755 خواتین اور 2071 بچے شامل ہیں۔
امیگریشن ذرائع کے مطابق، 17 ستمبر 2023 سے 31 مارچ 2025 تک 70494 افغان خاندان افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں کل 469159 افراد شامل ہیں۔
یہ انخلا کی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ غیر قانونی مقیم افراد کو وطن واپس بھیجا جا سکے اور ملک کے اندر سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔