پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب، اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے، اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا بورڈ دے گا۔ پاکستان کو توسیعی فنڈ فیسیلیٹی کے تحت ایک ارب ڈالر ملیں گے۔

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جس کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پہلے جائزے کیلئے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق گزشتہ 18ماہ میں معاشی نظم وضبط نظرآیا، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے بھی قرض معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت موسمیاتی تبدیلی کیلئے آئی ایم ایف سے 1.3ارب ڈالر ملیں گے۔ ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی قرض پروگرام کے تحت 1 ارب ڈالر ملیں گے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے سماجی تحفظ، تعلیم اور صحت کے شعبے میں بجٹ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ قرض پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان کی معاشی گروتھ بڑھے گی۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے نیا قرض پروگرام معاون ثابت ہوگا۔ قرض پروگرام سے قدرتی آفات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بجٹ ایلوکیشن بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پانی کے استعمال کو مؤثر اور بہتر بنائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے کلائمیٹ انفارمیشن آرکیٹیکچر کا نظام بہتر بنایا ہوگا۔

پاکستان کا پرائمری خسارہ معیشت کا 1 فیصد سرپلس رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہداف حاصل کیے ہیں۔ زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کے نفاذ میں اصلاحات کیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق یکم جولائی 2025 سے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی یقینی بنانا ہوگی۔ سرکاری اخراجات میں شفافیت پاکستان ایکیوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم نافذ کیا جائےگا۔

مانیٹری پالیسی سے اسٹیٹ بینک کو مہنگائی کنٹرول رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ توقع ہے کہ مہنگائی کی شرح پانچ سے 7 فیصد محدود رہے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles