امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ”امریکہ واپس آگیا ہے“ اور ان کی قیادت میں ملک ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت نے صرف 43 دن میں وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جو پچھلی حکومتیں چار یا آٹھ سال میں بھی حاصل نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیوں کا آغاز ہے اور امریکی ترقی کی رفتار بحال ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں سابق صدر جو بائیڈن کو ”ناکام ترین صدر“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں مہنگائی بے قابو ہو گئی تھی، حتیٰ کہ عوام کے لیے انڈے خریدنا بھی مشکل ہو گیا تھا، لیکن ان کی حکومت افراطِ زر کو کم کرے گی اور معیشت کی بحالی کو اولین ترجیح دے گی۔
’مسک چور ہے‘، ٹرمپ کے کانگریس خطاب کے دوران اپوزیشن کا شدید احتجاج
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں مقیم غیر قانونی افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور انہیں ان کے ممالک واپس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے غیر ملکیوں کے لیے 50 لاکھ ڈالر کے گولڈ کارڈ کا اعلان کیا، جو گرین کارڈ سے بہتر ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، جس پر اسپیکر مائیک جانسن نے ایوان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے سارجنٹ آف آرمز کو طلب کر لیا۔ اس دوران ڈیموکریٹک رکن ایل گرین نے احتجاج کیا، جس پر انہیں ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔

ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، لیکن ان کا مینڈیٹ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا ہے اور وہ اس مشن کو جاری رکھیں گے۔
دو اپریل سے ممالک پر جوابی ٹیرف عائد ہو جائیں گے: صدر ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کی تاریخ بھی بتائی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کا کہنا ہے کہ امریکہ کے زیادہ تر تجارتی شراکت داروں پر دو اپریل سے جوابی ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک دہائیوں سے ہمارے خلاف ٹیرف لگا رہے ہیں اور اب ہماری باری ہے کہ ہم ان ممالک کے خلاف ان ٹیرفس کا استعمال شروع کریں۔
صدر ٹرمپ کے بقول یہ جوابی اقدام ہے۔ وہ جو بھی ٹیکس ہم پر لگائیں گے ہم بھی وہی ٹیکس لگائیں گے۔